single photo

یہ تو ہونا ہی تھا: استعفیٰ منظور ہونے کی دیر تھی اسد عمر نے چپ توڑ دی ، پی ٹی آئی کیلئے بڑا پیغام جاری کردیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم عمران خان دو روز قبل وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دی ہیں جس کے تحت فواد چوہدری کو سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دی گئی ہے جبکہ اسد عمر نے کوئی اور وزارت لینے سے بھی انکار کر دیا ہے اور ان کا استعفیٰ بھی منظور کر لیا گیاہے . تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ” میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں جنہوں نے گزشتہ دونوں میں مجھے سپورٹ کیا ، پی ٹی آئی کے لاکھوں بے غرض ، نظریاتی اور جذبے سے بھر پور سپورٹرز ہیں جو کہ تحریک انصاف کے نظریے کے محافظ ہیں ، یہ آپ کا جذبہ ہی ہے جس سے عمران خان اور اس کی ٹیم قوت حاصل کرتی ہے ، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو .

جبکہ دوسری جانب اسدعمر کی کابینہ سے علیحدگی کے اعلان سے چند روز قبل ہی میڈیا نے اسد عمر سمیت وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی خبر بریک کردی تھی جس کی حکومتی سطح پر تردید کردی گئی لیکن بالآخر وہ خبرسچی نکلی ، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ وزراسے قبل ہی اس تبدیلی کا میڈیا کو کیسے پتہ چل گیا ، اب اندرونی کہانی سینئر صحافی اعزاز سید نے بے نقاب کردی . روزنامہ جنگ کیلئے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ” 15اپریل کو پانچ کے قریب صحافیوں کی راولپنڈی میں ایک اہم ملاقات ہوئی . اس ملاقات کے بعد ٹی وی چینلز کی سرخیاں اچانک کابینہ میں تبدیلیوں کی خبروں سے چنگھاڑنے لگیں . تھوڑی دیر بعد ان خبروں کی تردید کر دی گئی . ظاہر ہے یہ تردید وزیراعظم عمران خان کی منظوری سے ہی جاری کی گئی . اسلام آباد میں تبدیلیوں کے موقع پر راتیں پراسرار واقعات اور نقل و حرکت کی امین ہوتی ہیں . کچھ لوگ جڑواں شہروں میں ادھر ادھر سفر کرتے ہیں یا کبھی کبھار فون کالز پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے . بظاہر معمول کی نقل و حرکت اپنے اندر رازوں اور حیرانیوں کے طوفان لیے ہوتی ہے . اس بار بھی کچھ مختلف نہیں تھا . اس رات جیو ٹی وی پر حکومتی تردیدوں کے باوجود حامد میر اپنے پروگرام کیپٹل ٹاک میں کابینہ میں متوقع تبدیلیوں کے بارے میں بضد تھے . اگلے دو روز اسلام آباد میں سب معمول پر تھا . ایسا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور کچھ ہو گا بھی نہیں . 18اپریل کی صبح بھی معمول کی صبح تھی . وزیراعظم عمران خان سے کچھ سرکاری افسروں کی ملاقات ہوئی . جہانگیر خان ترین ان سے ملنے آئے، وزیر خزانہ اسد عمر بھی وہاں موجود تھے . تھوڑی دیر میں شیخ رشید بھی آگئے . معمول کے اجلاس تھے . وزیراعظم عمران خان کے علاوہ اجلاسوں میں شریک شاید ہی کوئی ہو جو جانتا ہو کہ کیا ہونے جا رہا ہے .

. .

Top