مزید 30 پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھجوادیے گئے، غلام سرور خان

راولپنڈی(قدرت روزنامہ) وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے مشتبہ پائلٹس کی اسکروٹنی کا عمل تیز کردیا ہے اور ایک انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں . ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کابینہ ان پائلٹس کی قسمت کا فیصلہ کرے گی اور پائلٹس کے کیسز کی الگ الگ سماعت بھی درست نقطہ ہے .

یورپیئن یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) پر یورپی ممالک میں پروازوں کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے معطل ہوجانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے. پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے راولپنڈی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے کہا کہ ’ایم ایم سی اے اے نے ہمیں اب تک پاکستانی پائلٹس کی کوئی فہرست نہیں دی لیکن ہم ملائیشیا ، امارات اور دیگر ایئرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کررہے ہیں‘. انہوں نے کہا کہ پائلٹس کی تصدیق کا عمل ٹھوس بنیادوں پر کیا جائے گا اور جنہیں سرٹیفکیٹ ملے گا انہیں ہی جہاز اڑانے کی اجازت ہوگی. انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2 دہائی کے عرصے میں قومی ایئرلائن کے 11 چیف ایگزیکٹو افسران تبدیل ہوئے حتیٰ کہ ’یونین کی تجویز پر بھی سی ای اوز تبدیل ہوئے'. غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس کی روشنی میں حکومت نے مشتبہ پائلٹوں اور ہوابازی کے دیگر عملے کی اسناد کی تصدیق کا عمل تیز کردیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ایک انکوائری بورڈ بنایا گیا ہے جس نے پائلٹ کے لائسنس کی اسکروٹنی کا آغاز کردیا ہے جبکہ ایک تضاد پایا گیا جس کی بعد میں فرانزک انکوائری کروائی گئی. انہوں نے کہا کہ ’انکوائری بورڈ میں 850 مشتبہ پائلٹس سامنے آئے جس میں سے 262 مشتبہ لائسنس مشکوک پائے گئے‘. وزیر ہوا بازی نے بتایا کہ انکوائری رپورٹ وزیراعظم عمران خان کے سامنے پیش کردی گئی ہے جس کے بعد 28 پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹس بھیجے گئے اور انہیں ذاتی حیثیت میں سنوائی کا موقع دیا گیا اور 9 پائلٹس کی جانب سے مشکوک لائسنس کےا عتراف کے بعد انہیں معطل کردیا گیا.

..


Top