لداخ کے شہری نے چین بھارت تنازعے پر بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں کا پول کھول دیا

لداخ (قدرت روزنامہ) لداخ کے شہری نے چین بھارتی تنازعے پر بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں کا پول کھول دیا . تفصیلات کے مطابق لداخ کے شہری نے چین بھارتی تنازعے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں کا پول کھول دیا .


ضرور پڑھیں: بھارتی میڈیا کا نیا پراپیگنڈہ چینی ووہان لیبارٹری کا پاکستان میں غیرقانونی خفیہ آپریشن؟ سچائی آخرکیا ہے؟ پاکستان کا ردعمل بھی آگیا

شہری کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا گلوان وادی سے 218 کلومیٹر دور رہ کر گراؤنڈ زیرو سے رپورٹنگ کا تاثر دے رہا ہے. شہری کا مزید کہنا ہے کہ معلوم نہیں بھارتی میڈیا عوام کو کیوں گمراہ کر رہا ہے.چین نے لداخ میں پیش قدمی کی لیکن مودی قوم سی جھوٹ بول رہا ہے.لداخ میں موجود ہر شہری حقائق جانتا ہے. دوسری جانب بھارتی بھارتی دفاعی تجزیہ نگار راجے شکلا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلوان وادی میں بہت بڑا چینی فوجی کیمپ نظر آرہا ہے

جو ایل اے سی پر بھارت کی طرف 1.5 کلومیٹر اندر قائم کیا گیا ہے. سابق بھارتی سفارتکار اور لداخ کے معاملات کے ماہر ستو بدون نے بتایا ہے کہ یہ تعمیرات پریشان کن ہیں. رائٹرز کے مطابق تصاویر میں جو چینی تعمیراتی سرگرمیاں دکھائی گئی ہیں ان میں کیمو فلاج خیمے یا چٹان کی بیس پر ڈھانپے ہوئی سٹرکچر اور تھوڑی ہی دور ممکنہ نئے کیمپس کی دیواریں یا بنکرز ہیں.ان حالات میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خطرات بھی منڈلانے لگے ہیں . چین وادی گلوان میں بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپ والےعلاقے کے قریب نئی تعمیرات کا اضافہ کرنے لگا، غیر ملکی خبررساں ادارے نے چین بھارت سرحد پر چین کی جانب سے تعمیر کیے گئے نئے انفرسٹکچر کی تصاویر شئیر کی ہیں اور کہا ہے کہ ان سیٹلائٹ تصاویر سے چین کے نئے انفراسٹرکچر کا اندازہ ہوتا ہے اور اس پیشرفت سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ممالک کے مابین تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں.

..

ضرور پڑھیں: بھارتی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار، دیامر بھاشا ڈیم کو لے کر بد تہذیبی پر اتر آیا


Top