بلوچستان اسمبلی نے کثرت رائے سے451ارب 97کروڑ مالیت کے بجٹ2020/21کی منظوری دیدی

کوئٹہ(قدرت نیوز)بلوچستان اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2020-21ء کے 451ارب 97کروڑ 43روپے سے زائد کے بجٹ کی منظوری دیدی،اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کردی گئیں جبکہ اپوزیشن نے بعض تحاریک واپس لے لیں ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں شروع ہو اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خزانہ میر ظہورحمد بلیدی نے 295 ارب ،29 کروڑ 65 لاکھ رپوے سے زائد مالیت کے 60مطالبات زر جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 156ارب 67کروڑ 77 لاکھ روپے سے زائد کے 33 غیر ترقیاتی مطالبات زر پیش کیے جبکہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والی کٹوتی کی تحریکیں کثرت رائے سے نامنظور کی گئیں تاہم تخفیف زر کی بعض تحاریک محرکین کی جانب سے واپس لے لی گئیں . صوبائی وزیر خزانی میر ظہور احمد بلیدی نے آئندہ مالی سالی کا بجٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک رقم جو4ارب40کروڑ95لاکھ روپے سے زائد نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کیلئے عطاء کی جائے جو مالی سال کے اختتام30 جون 2020-21 کے دوران بسلسلہ ریاستی تجارت ووٹڈ برداشت کرنے پڑینگے ،ایک رقم 3 ارب بسلسلہ مدسرمایہ کاری ، 3ارب ایک کروڑ54لاکھ 79ہزارروپے بسلسلہ مد جنرل ایڈمنسٹریشن ، ایک ارب 11کروڑ5لاکھ 2ہزارروپے بسلسلہ مدصوبائی ایکسائز ،5کروڑ 35لاکھ19ہزارروپے بسلسلہ مد اسٹامپس ،38ارب 16کروڑ92لاکھ 91ہزار650روپے بسلسلہ مد پینشن ،2ارب 51کروڑ48لاکھ 77ہزار 210روپے بسلسلہ مد ایڈمنسٹریشن آف جسٹس ،22ارب 17کروڑ 76لاکھ 3ہزار 900روپے بسلسلہ مد پولیس،12ارب 45کروڑ37لاکھ 43ہزار روپے بسلسلہ مد لیویز،ایک ارب 47کروڑ 36لاکھ 39ہزارروپے بسلسلہ مدجیل وقید وبندمقامات،17کروڑ 8لاکھ 46ہزارروپے بسلسلہ مدشہری دفاع ،11ارب 39کروڑ 78لاکھ 9ہزار580روپے بسلسلہ مد سول ورکس(بشمول اسیٹبلشمنٹ چارجز) ،4ارب 55کروڑ 37لاکھ بسلسلہ مدپبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ،ایک ارب 20کروڑ53لاکھ 43ہزار 8سوروپے بسلسلہ مد ورکس اربن بی واسا ،11ارب 78کروڑ 30لاکھ 80ہزارروپے بسلسلہ مد محکمہ اعلیٰ تعلیم ،42کروڑ 47لاکھ 49ہزار روپے بسلسلہ مد آثارقدیمہ عجائب گھر اورلائبریریز،31ارب 40کروڑ 53لاکھ63ہزار28روپے بسلسلہ مدصحت ،ایک ارب 19کروڑ16لاکھ 24ہزار روپے بسلسلہ مد بہبود آبادی ،2ارب 25کروڑ 87لاکھ 51ہزارروپے بسلسلہ مد مین پاور اینڈ لیبر مینجمنٹ ،ایک ارب4کروڑ17لاکھ 85ہزار روپے بسلسلہ مد کھیلوں کاانتظام وتفریحی سہولیات ،2ارب 26کروڑ81لاکھ 77ہزار 8سو روپے بسلسلہ مد سماجی تحفظ اور سماجی بہبود ،ایک ارب67کروڑ روپے بسلسلہ مد صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے ،91کروڑ 50لاکھ 68ہزار 664روپے بسلسلہ مد محکمہ مذہبی امور ،74کروڑ35لاکھ 78ہزار روپے بسلسلہ مد خوراک ،11ارب 7کروڑ 19لاکھ 65ہزار روپے بسلسلہ مد زراعت ،29کروڑ32لاکھ 70ہزار بسلسلہ مد لینڈ ریونیو،4ارب59کروڑ20لاکھ 76ہزار بسلسلہ مد امور حیوانات ،ایک ارب 60کروڑ 50لاکھ 81ہزار روپے بسلسلہ مد جنگلات ،ایک ارب23کروڑ 25لاکھ 31ہزار بسلسلہ مد ماہی گیری ،20کروڑ 70لاکھ 44ہزارروپے بسلسلہ مد کوآپریٹیو ،3ارب 72کروڑ 38لاکھ 67ہزار روپے بسلسلہ مد آبپاشی،12ارب 99کروڑ 56لاکھ 80ہزار 170روپے بسلسلہ مد لوکل گورنمنٹ ودہی ترقی ،ایک ارب 76کروڑ 26لاکھ 57ہزار 7سو روپے بسلسلہ مد صنعت ، 18کروڑ 42لاکھ 54ہزار 5سو روپے بسلسلہ مد اسٹیشنری وطباعت ،3ارب ،62کروڑ 40لاکھ 67ہزار روپے بسلسلہ مد معدنی وسائل (سائنسی شعبہ) ،2ارب 30کروڑ روپے بسلسلہ مد قرضہ اور سبسڈیز ،38کروڑ 72لاکھ 98ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ پراسیکیوشن ،14کروڑ 97لاکھ 71ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ ٹرانسپورٹ ،51ارب 87کروڑ31لاکھ 83ہزار روپے بسلسلہ مد ثانوی تعلیم ،5ارب 98کروڑ24لاکھ 30ہزار روپے بسلسلہ مد طبی تعلیم ،46کروڑ58لاکھ 45ہزار5سو روپے بسلسلہ مد ثقافتی خدمات ،53کروڑ 51لاکھ 11ہزار بسلسلہ مد قانونی خدمات اور قانونی امور ،33کروڑ 68لاکھ 96ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ ترقی نسواں ،5ارب 23کروڑ 90لاکھ 18ہزار روپے بسلسلہ مد بلوچستان کانسٹیبلری ،6ارب 85کروڑ 18لاکھ روپے بسلسلہ مد انرجی ڈیپارٹمنٹ ،39کروڑ 80لاکھ 23ہزار روپے بسلسلہ مد انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ ،45کروڑ 5لاکھ 42ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ ماحولیاتی کنٹرول ،23کروڑ 6لاکھ 57ہزار روپے بسلسلہ مد صوبائی محتسب ،69کروڑ 86لاکھ 82ہزار روپے بسلسلہ مد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ،2ارب6کروڑ 76لاکھ 30ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ داخلہ ،4ارب 79کروڑ 72لاکھ22ہزار روپے بسلسلہ مد بورڈ آف ریونیو اینڈ ایڈمنسٹریشن،8ارب 89کروڑ 60لاکھ 65ہزار9سو روپے بسلسلہ مد فنانس ڈیپارٹمنٹ،29کروڑ 15لاکھ 64ہزار روپے بسلسلہ مد اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ،ایک ارب 28کروڑ 53لاکھ 37ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ منصوبہ بندی وترقیات ،65کروڑ 69لاکھ 3ہزار روپے بسلسلہ مد محکمہ اطلاعات ،7کروڑ 16ہزار روپے بسلسلہ مدوزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم ،4کروڑ91لاکھ 83ہزار روپے بسلسلہ مد گورنرسیکرٹریٹ(ووٹڈ)17کروڑ 17لاکھ 79ہزار روپے بسلسلہ مد صوبائی اسمبلی (ووٹڈ) ،28کروڑ 39لاکھ 17ہزار روپے 960روپے بسلسلہ مد محکمہ اقلیتی امور،4ارب 9کروڑ84لاکھ 95ہزار روپے بسلسلہ مد جنرل ایڈمنسٹریشن ،66کروڑ 35لاکھ 98ہزار روپے بسلسلہ مد ایڈمنسٹریشن آف جسٹس ،94کروڑ68لاکھ 64ہزار روپے بسلسلہ مدپولیس،21کروڑ78لاکھ 42ہزار روپے بسلسلہ مد لیویز،33کروڑ روپے بسلسلہ مد جیل وقید وبندمقامات،26ارب 92کروڑ 70لاکھ 84ہزار روپے بسلسلہ مد کمیونیکیشن اینڈ ورکس،9ارب 64کروڑ 11لاکھ 65ہزار روپے بسلسلہ مد پبلک ہیلتھ سروسز5ارب 25کروڑ60لاکھ 25ہزار روپے بسلسلہ مد کالجز ہائراینڈ ٹیکنالوجی ایجوکیشن،7ارب 25کروڑ ایک لاکھ 53ہزار روپے بسلسلہ مد صحت،20کروڑ روپے بسلسلہ مد پاپولیشن پلاننگ ،6کروڑ 10لاکھ روپے بسلسلہ مد محنت وافرادی قوت ،5ارب 33کروڑ 8لاکھ 48ہزار روپے بسلسلہ مد کھیل وتفریحی سہولیات ،ایک ارب 9کروڑ45لاکھ 30ہزار روپے بسلسلہ مد سماجی بہبود،38کروڑ29لاکھ 45ہزار روپے بسلسلہ مدخوراک ،4ارب31کروڑ37لاکھ 71ہزار روپے بسلسلہ مد زراعت،ایک ارب 10کروڑ 80لاکھ61ہزار روپے بسلسلہ مد لائیواسٹاک،82کروڑ 15لاکھ 85ہزار روپے بسلسلہ مد جنگلات ،63کروڑ 70لاکھ روپے بسلسلہ مدماہی گیری،7ارب 79کروڑ4لاکھ 33ہزار روپے بسلسلہ مدآبپاشی،4ارب 11کروڑ 97لاکھ 92ہزار روپے بسلسلہ مد لوکل گورنمنٹ ودہی ترقی،52کروڑ 43لاکھ 79ہزار روپے بسلسلہ مد صنعت وحرفت ،53کروڑ 45لاکھ روپے بسلسلہ مد مائنز اور معدنی وسائل،3ارب 85کروڑ 24لاکھ 26ہزار روپے بسلسلہ مد ثانوی تعلیم،ایک ارب17کروڑ 55لاکھ 80ہزار روپے بسلسلہ مد ثقافت وسیاحت ،42کروڑ روپے بسلسلہ مد ترقی نسواں،2ارب 51کروڑ 82لاکھ روپے بسلسلہ مد انرجی،ایک ارب 16کروڑ97لاکھ 84ہزار روپے بسلسلہ مد انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ ،20کروڑ روپے بسلسلہ مد ماحولیاتی کنٹرول،ایک ارب 65کروڑ92لاکھ 49ہزار روپے بسلسلہ مد اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ،12ارب 20کروڑ 6لاکھ 5ہزار روپے بسلسلہ مد فارن فنڈڈ پراجیکٹس،38ارب 21کروڑ59لاکھ 27ہزار705روپے بسلسلہ مد فیڈرل فنڈڈ پراجیکٹس ،76کروڑ50لاکھ 51ہزار روپے بسلسلہ مدبلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، اور ایک رقم جو12ارب 24کروڑ91لاکھ 5ہزار روپے روپے سے زائد نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کیلئے عطاء کی جائے جو مالی سال کے اختتام30 جون 2020-21 کے دوران بسلسلہ دیگر اسکیمز برداشت کرنے پڑینگے .

اس موقع پر اپوزیشن ارکان نصراللہ زیرئے ، اخترحسین لانگو ،یونس عزیز زہری،اکبر مینگل کی جانب سے کٹوتی کی تحاریک بھی ایوان میں پیش ہوئیں جنہیں کثر ت رائے سے نامنظور کرتے ہوئے ایوان نے وزیرخزانہ کی جانب سے پیش کردہ مطالبات زر کی تمام تحاریک منظور کرلیں .بعدازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے بجٹ کی منظور پر حکومت اور اپوزیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس پیر کی دوپہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کردیا.

..


Top