سعودیہ کے شاہی محل میں خواتین فوجی اہلکار بھی ڈیوٹی دینے لگیں

ریاض(قدرت روزنامہ) موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی درجنوں اصلاحات کے نتیجے میں گھروں تک محدود رہنے والی سعودی خواتین اب زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھ کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے اور سعودی معیشت کی ترقی میں بھی اپنا نمایاں حصہ ڈال رہی ہیں .  سعودی خواتین کھیل، تجارت، ملازمت اور میڈیا سمیت کئی میدانوں میں بڑے بڑے معرکے مار رہی ہیں .


تاہم اب سعودی خواتین کو ایک اور اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے. شاہی خاندان کی حفاظت پر مامور فوجی اہلکاروں میں خواتین کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو شاہی محل کے دروازے پر بڑی ذمہ داری سے ڈیوٹی دے رہی ہیں. گلف نیوز کے مطابق اس بات کا انکشاف تب ہوا جب ایک سعودی شہزادے ستام بن خالد السعود نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں ایک خاتون اہلکار سعودی رائل گارڈز کی وردی میں ملبوس شاہی محل کے باہر اپنی ڈیوٹی نبھاتی دکھائی دے رہی ہے. سعودی رائل گارڈز کی اس خاتون محافظ کے ساتھ اس کے ساتھی مرد اہلکار بھی نظر آ رہے ہیں. خاتون محافظ نے چہرے پر کورونا سے بچاؤ کی خاطر ماسک پہن رکھا ہے.اس تصویر کو ٹویٹر پر بہت پذیرائی مل رہی ہے اور لوگ اسے دھڑا دھڑ ری ٹویٹ کر رہے ہیں. تاہم گلف نیوز کے مطابق خاتون کی یہ تصویر کس محل کے باہر ڈیوٹی دیتے وقت لی گئی، اس بارے میں فی الحال پتا نہیں چل سکا. واضح رہے کہ سعودی رائل گارڈز کا شمار انتہائی پیشہ ور اور فرض شناس فوجی اہلکاروں میں ہوتا ہے. یہ فورس شاہی خاندان کی حفاظت کا فریضہ پوری تن دہی سے نبھاتی ہے. سعودی فرمانروا اور سعودی ولی عہد کے علاوہ شاہی خاندان کے دیگر افراد کی حفاظت کے لیے سعودی رائل گارڈز کے اہلکار سائے کی طرح ان کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں. اس وقت ٹویٹر پر سعودی رائل گارڈ ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے. 

..


Top