بھارتی فلمیں تمباکو اور شراب نوشی بڑھانے کا سبب قرار

لندن (قدرت روزنامہ)بھارتی فلمیں تمباکو اور شراب نوشی بڑھانے کا سبب قرار دے دی گئی ہے . اس حوالے سے لندن کے وائٹل اسٹریٹیجیز اینڈ امپیریل کالج کے محققین نے اپنی تحقیق پیش کی ہے جس میں ان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ایک فلم میں تمباکو نوشی کو 4 سے 5 مرتبہ دکھایا جاتا ہے جب کہ شراب پینے کے مناظر 7 مرتبہ دکھائے جاتے ہیں .

ضرور پڑھیں: مسافر بسوں میں بھارتی فلمیں دکھانے پر پابندی عائد

اس کے علاوہ محققین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری بالی وڈ کی 1994 سے لے کر 2013 تک کی 300 فلموں کا جائزہ لیا گیا جس میں 93 فیصد تک شراب، 70 فیصد تمباکو نوشی اور 21 فیصد فاسٹ فوڈ دکھایا گیا ہے. اس سلسلے میں وائٹل اسٹریٹیجیز کی گلوبل پالیسی اینڈ ریسرچ پالیسی، ایڈووکیسی اینڈ کمیونیوکیشن کی نائب صدر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہماری تحقیق کے مطابق فلموں میں ایسی مضر صحت اشیاء دکھانے کی وجہ سے خصوصاََ بچوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں. ان کا مزید کہنا تھا کہ ان سب کے استعمال سے موٹاپا، دل کے امراض اور کینسر جیسے جان لیوا مختلف امراض لاحق ہوسکتے ہیں

اور ہمارے آنے والی نوجوان نسل اس کا خاص طور پر شکار ہو چکی ہے. خیال رہے کہ اس سے بھی مختلف تحقیقات میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دنیا بھر میں چلائی جانے فلموں کا معائنہ کیا جائے تو سب سے زیادہ سگریٹ نوشی اور مضر صحت کھانوں کی تشہر بھارتی فلموں میں کی جاتی ہے. خیال رہے کہ اس وقت ملک کے بیشتر ممالک میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں. اس دوران بچوں کا بہت زیادہ رجحان فلموں کی طرف دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد آن لائن فلم دیکھنے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے. بھارت کی فلمیں بھارت کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی دیکھی جاتی ہیں جس کے بعد اس کے منفی نتائج پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں. اب یہ بات تحقیق سے بھی ثابت ہو گئی ہے جس کے مطابق بھارتی فلمیں تمباکو اور شراب نوشی بڑھانے کا سبب قرار دے دی گئی ہے. اس حوالے سے محققین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ایک فلم میں تمباکو نوشی کو 4 سے 5 مرتبہ دکھایا جاتا ہے جب کہ شراب پینے کے مناظر 7 مرتبہ دکھائے جاتے ہیں

..


Top