مصری خاندان کورونا کی شکار خاتون کو دفنانے کے لیے 15 گھنٹے خوار ہوتا رہا

قاہرہ(قدرت روزنامہ) دُنیا بھر میں کورونا کی وبا نے 51 لاکھ کے قریب افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے . اس عالمی وبا کے دوران لوگوں کی بے حِسی کی بھی بہت سی داستانیں سامنے آئی ہیں .

انسانیت کی مردہ ضمیری کا ایسا ہی ایک واقعہ مصر میں بھی پیش آیا ہے، جہاں ایک خاندان کورونا کے باعث وفات پانے والی بزرگ خاتون کو دفنانے کے لیے15 گھنٹے تک قبرستانوں کے چکر کا ٹتا رہا، مگر ہر علاقے کے بے حس مکینوں نے خاتون کو قبرستان میں دفنانے کی اجازت نہ دی. اُردو نیوز کے مطابق مصری نوجوان سید نصیر جن کی چند ماہ قبل شادی ہوئی تھی ان سمیت خاندان کے 48 افراد کورونا کی وبا کا شکار ہوگئے. سید نصر کی فیملی اور ان کے خاندان والوں کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ان کے بیمار چچا طبی معائنہ کرانے ہسپتال گئے. ڈاکٹر نے یہ کہہ کر انہیں واپس بھیج دیا کہ معمولی سردی لگ گئی ہے خطرے کی کوئی بات نہیں.جب مرض نے شدت اختیار کی تو چند دن بعد دوبارہ ہسپتال گئے.اس مرتبہ ڈاکٹروں نے کہا کہ سخت نزلہ ہوگیا ہے جس پر ٹیسٹ کرایا گیا تو پتا چلا کہ وہ کورونا کا شکار ہوچکے ہیں. سید نصر نے بتایا کہ چچا کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے چار گھنٹے بعد دادی جان پر کورونا کی علامتیں نمودار ہوئیں. ٹیسٹ کا رزلٹ ا?تے ہی وہ دنیا سے چل بسیں. دادی کی موت پر فیملی 15 گھنٹے تک ان کی میت کی تدفین کے لیے ایک قبرستان سے دوسرے قبرستا ن کے چکر کاٹتی رہی. جہاں بھی گئے آس پاس کے باشندے وائرس کے پھیلنے کے ڈر سے دادی کو دفنانے سے روک دیتے تھے. آخر کار گاوٴں کے آبائی قبرستان میں گیا اوروہاں دادی کی تدفین ہوئی.کچھ دن کے اندرسید نصر کے دو اور چچا کورونا وائرس سے متاثر ہوکر چل بسے جبکہ خاندان کے 48 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوگئے. سید نصر کا کہنا ہے کہ گھر والوں نے کورونا وائرس کے بچاوٴ کے حفاظتی اقدامات کی پابندی کی تھی. سب گھروں میں رہ رہے تھے. انتہائی ضرورت کے تحت ہی باہر نکلتے تھے، پتا نہیں کب اس مرض میں مبتلا ہوگئے.سید نصر کے خاندان کے بیشترافراد کورونا میں مبتلا ہیں مگر ان میں سے کسی پر بھی وائرس کی علامتیں نمودار نہیں ہوئیں.سید نصر اور اس کے خاندان کے متعدد افراد کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تاہم انہیں معمول کی زندگی شروع کرنے سے قبل 14 دن تک ہاوٴس ا?ئسولیشن میں گزارنے کی ہدایت کی کئی ہے.

..


Top