دورہ انگلینڈ، کھلاڑیوں کے پاس دستبرداری کا آپشن موجود ہوگا، وسیم خان

لاہور (قدرت روزنامہ) انگلینڈ ٹور کیلئے قومی پلیئرز کی جانب سے ممکنہ تحفظات کے پیش نظر ٹیم انتظامیہ اور بورڈ حکام کی جانب سے تسلیاں اور دلاسے شروع ہو گئے ہیں،اگرچہ کسی کھلاڑی کی جانب سے انکار نہیں کیا گیا لیکن ان میں خوف کا عنصر محسوس ہو رہاہے جس کو دیکھتے ہوئے پی سی بی کی جانب سے تسلسل کے ساتھ صحت اور حفاظت پر کسی قسم کی مفاہمت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے ،چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ 25 ریڈ اور وائٹ بال پلیئرزجولائی میں انگلینڈجائیں گے جن کو دورے کے اختتام تک ساتھ رہنا ہوگا،سخت بائیو سیکیور ماحول میں تین ماہ گزارنے ہوں گے . تفصیلات کے مطابق حالیہ عرصے میں کورونا وائرس کے انگلینڈ میں پھیلاؤ اور اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں میں خوف کا عنصر موجود ہے اور اگرچہ کسی کھلاڑی نے دورے پر جانے سے انکار نہیں کیا ہے تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کئی کھلاڑیوں نے آپس میں گفتگو کے دوران انگلینڈ ٹور پر موجودہ حالات میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن وہ وقت کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے پر مجبور ہیں اور کچھ کا یہ خیال ہے کہ جولائی کے کے مہینے تک ماحول تبدیل ہو جائے گا جبکہ اپنی فیملیز کی جانب سے دباؤ کے شکار بعض کھلاڑی انگلینڈ میں حالات مزید بہتر نہ ہونے پر دورے سے انکار بھی کر سکتے ہیں جس کے پیش نظر پی سی بی نے پہلے سے ہی کھلاڑیوں کو تسلیاں اور دلاسے دینا شروع کردیئے ہیں تاکہ دورے کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جا سکے

جو مالی اعتبار سے دونوں ممالک کیلئے انتہائی ضروری ہے .

ضرور پڑھیں: وسیم خان نے شرجیل کی فٹنس پر سوال اٹھا دیا

چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان،ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز ذاکر خان،ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق اور ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم نے پاکستانی کھلاڑیوں کو اس بات چیت سے متعلق اپ ڈیٹ کرنا شروع کردیا ہے جو کہ گزشتہ ہفتے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے رواں برس انگلش ٹور کیلئے ہوئی تھی اورقومی کھلاڑیوں کو گزشتہ روز اس بارے میں بریف کیا گیا کہ ان کی صحت اور حفاظت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا . وسیم خان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ریڈ اور وائٹ بال کے 25 کھلاڑیوں کو انگلینڈ ٹور پر لے جانے کی پلاننگ کی گئی ہے جن کو دورے کے اختتام تک اسکواڈ کے ساتھ شامل رہنا ہوگا اور فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کھلاڑی سخت بائیو سیکیور ماحول میں تین ماہ کا عرصہ گزاریں گے .چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے ایک بار پھر اس بات کی وضاحت کردی کہ گائیڈ لائنز کے پیش نظر جو بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے اس پر اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کوئی بھی کھلاڑی دورے سے دستبرداری ظاہر کر سکتا ہے

البتہ اس حوالے سے مزید تفصیلات آنے والے ہفتوں کے دوران سامنے لائی جائیں گی. ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی کی گائیڈلائنز کے مطابق جون کے اوائل میں لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ سیشنز کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کیلئے ڈاکٹر سہیل سلیم،مصباح الحق اور وقار یونس حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھلاڑیوں کیلئے ٹریننگ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں. کھلاڑیوں کو اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی آئندہ دنوں ای سی بی حکام سے جو بھی بات چیت ہوگی اس سے انہیں فوری آگاہ کیا جائے گا جبکہ حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات سے بھی انہیں مطلع رکھا جائے گا تاکہ وہ ہر قسم کی پیشرفت سے بخوبی آگاہ رہ سکیں. ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز ذاکر خان کا کہنا تھا کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں کھلاڑیوں کی لاہور میں ٹریننگ شروع کرانے کے حوالے سے بہترین انتظامات کئے جا رہے ہیں اور پی سی بی نے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کیلئے ان کی فیملی سمیت انشورنس کو بھی یقینی بنایا گیا ہے .ذرائع کے مطابق انگلینڈ ٹور سے قبل ان قومی کھلاڑیوں کو بھی بریف کیا جا سکتا ہے جو سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکے کیونکہ انگلینڈ میں ان کی ضرورت بھی محسوس ہو سکتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ دورے پر جانے والا اسکواڈ معمول سے زیادہ بڑا ہوگا اور اگر عین وقت پر کچھ کھلاڑیوں کی جانب سے بھی دورے سے انکار کی صورتحال سامنے آئی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں.

..

ضرور پڑھیں: جنوبی افریقہ کی ٹیم مارچ میں پاکستان آئیگی: وسیم خان


Top