ڈاکٹر عبدالقدیر کی نقل وحرکت سے متعلق کیس، حکومت کی ان کیمرا سماعت کی استدعا مسترد

(قدرت روزنامہ)ملک کے معروف جوہری سائنس دان ڈاکڑ عبدالقدیر خان کی جانب سے ان کی نقل و حرکت پر پابندی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر حکومت کی ان کیمرا سماعت کی استدعا کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا . سپریم کورٹ نے سفری پابندیوں سے متعلق کیس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عدالت آنے کی اجازت بھی دے دی .

عدالت عظمیٰ میں سفری پابندیوں کے خلاف ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی درخواست پر جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی. دوران سماعت جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ’ہم نے ڈاکٹر صاحب سے ایٹم بم کا فارمولہ نہیں پوچھنا، وکلا کی ذمہ داری ہے کہ قوم کے ہیرو کا تمسخر نہ بنائیں‘. جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے حقوق کو غیر مناسب فورمز پر لے جا کر کیوں اپنا حق ضائع کر رہے ہیں؟سماعت کے آغاز پر ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے وکیل نے دلائل دیے کہ ان کے موکل کو آج عدالت نہیں آنے دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ عدالت آنا ان کے موکل کا بنیادی حق ہے. وفاقی حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے عدالت آنے سے مسائل ہوں گے. انہوں نے کہا کہ بہتر ہے عدالت ان کیمرا سماعت رکھ لے جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ سماعت ان کیمرا کی جائے. جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی قوم کے لیے خدمات کو تسلیم کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کی رضامندی سے 2009 میں فیصلہ دیا، جسے 10 سال تک کہیں چیلنج نہیں کیا گیا. ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اب لاہور ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی، اگر سپریم کورٹ معاملے میں براہ راست مداخلت کرے تو کیا یہ مناسب ہو گا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد ہائیکورٹ دوبارہ کیوں نہیں گئے؟ اس پر ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے وکیل نے کہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے میں سپریم کورٹ براہ راست مداخلت کر سکتی ہے. جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ’عدالت سے غیر مناسب حکم کے لیے اصرار نہ کریں، درخواست پر اپنے موکل سے مشاورت کر کے مؤقف بتا دیں‘.بعد ازاں عدالت نے درخواست پر سماعت 13 مئی تک کے لیے ملتوی کردی. خیال رہے

کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت سمیت ان کے بنیادی حقوق پر عمل درآمد کے لیے 23 دسمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا تھا. ایڈووکیٹ زبیر افضل رانا کے توسط سے عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی حقوق، معقول پابندیوں کی آڑ میں کسی کی پسند یا ناپسند پر کم یا سلب نہیں کیے جاسکتے. ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ کے 25 ستمبر 2019 کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی جس میں ان کی اسی طرح کی ایک درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا کہ ان کے تحفظ کے لیے ریاست کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا معاملہ ان کے دائرہ کار میں نہیں. درخواست میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا سرکاری عہدیداروں کو درخواست گزار، ان کے قریبی اور عزیز لوگوں، ملازمین، اہل خانہ، دوستوں، صحافیوں، مختلف کالجوں، یونیورسٹی کے اساتذہ، اعلیٰ حکام اور بیورو کریٹس سے ملنے سے روکنے کے آئینی تحفظ کی خلاف ورزی کی اجازت دی جاسکتی ہے. مذکورہ درخواست میں یہ بھی سوال کیا گیا تھا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس شکایت کے ازالے کے لیے درخواست گزار کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بنیادی مشورہ دینے کا جواز درست تھا. ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست کے مطابق انہیں سیکیورٹی حکام کی پیشگی منظوری کے بغیر ملک میں گھومنے پھرنے، کسی سماجی یا تعلیمی تقریب میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں، یہ صورت حال درخواست گزار کو ورچوئل قید میں رکھنے کے مترادف ہے.

..


Top