کنٹریکٹ ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے فاقہ کشی کی وجہ سے لوگوں کو محتاج اور قرض دار ہوگئےحکومت نے کتنے ماہ کی تنخواہ ادا نہیں کی ؟افسوسناک انکشاف

پشاور(قدرت روزنامہ)موبائل ہسپتال پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کورونا وائر س کے خلاف قبائلی اضلاع عوام کے خدمت کیلئے حکومت کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکرڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں . قبائلی اضلاع کے شعبہ صحت پروجیکٹ/کنٹریکٹ ملازمین کا اپنے ریگولرائزیشن اوراپنے حقوق مانگنے کا مطالبہ کیا .

ضرور پڑھیں: ’’سینکڑوں ملازمین کا کس سیاستدان کے کے بنگلے پر تعیناتی کا انکشاف ‘‘دفاتروں میں حاضری کم ، جی حضوری میں مصروف گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرنے لگ گئے،تشویش کی لہر دوڈ گئی

جس میں حکومت کیطرف سے ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوا، آل پراجیکٹ ملازمین کا کہنا ہے. کہ پراجیکٹ ملازمین کی تحفظ اور مطالبات کا کوئی ذکر نہیں ہو رہا. ملازمین کے مطالبات کو من و عن سے تسلیم کیا جائے . قبائلی اضلاع کے تمام ہیلتھ پراجیکٹ ملازمین کو بہت جلد مستقل کردئیے جائیں . کنٹریکٹ ملازمین کے پانچ مہینوں کے تنخواہیں بند ہیں اور گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں جس سے ملازمین فاقہ کشی پر مجبو ر ہوگئے ہیں.

مختلف مواقعوں پر اعلانات ہونے کے بائوجود قبائلی اضلاع کے شعبہ صحت کے پراجیکٹ ملازمین ابھی تک مستقل نہیں کئے گیے ہیں. ان تمام ہیلتھ پراجیکٹ جسمیں موبائل ہسپتال پروگرام ا ور دیگر بہت سارے ہیلتھ پراجیکٹ شامل ہیں. اور یہ تمام ہیلتھ پراجیکٹ 15/20سالوں سے مختلف قبائلی اضلاع جسمیں باجوڑ ،مہمند، خیبر، اورکزئی،کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے اور تمام ایف آرز کے اضلاع میںکام کررہے ہیں. لہٰذا ہم تمام قبائلی اضلاع ہیلتھ پراجیکٹ ملازمین تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں کہ صوبائی ہیلتھ پراجیکٹ ملازمین کی طرح قبائلی اضلاع کے پراجیکٹ ملازمین کو بھی مستقل کئے جائیں. اور تمام ملازمین مستقلی کی سمری کو پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر اسے صوبائی اسمبلی سے پاس کردیا جائیں. اور ان تمام پراجیکٹ ہیلتھ ملازمین کو تمام مراعات اور اپنے جائز حقوق دئیے جائیں.

..

ضرور پڑھیں: وزیر صحت ایوان میں موجود نہیں ،کسی سے اگر پوچھا جائے کہ وزیر صحت کون ہے ؟ تو کسی کو پتا نہیں ہوگا ؟لوگ منتظر ہیں ،کورونا پر بات کب ہو گی ، ایک صوبے کے وزیر صحت کو گوگل کر کے پتہ کرتے رہے، ڈاکٹرز ، نرسز اور فوج کی تنخواہ میں سو فیصد اضافہ۔۔ ایوان میں نئی بحث چھڑ گئی


Top