میرے جسم میں کورونا داخل کر کے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔۔!! پاکستان کے مشہور سیاستدان کے ساتھ جیل میں کیا کِیا گیا؟ اب تک کا سب سے بڑا دعویٰ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) مفتی کفایت اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ جیل میں میرے جسم میں کرونا وائرس ڈال کر مجھے ختم کرنے کی کوشش کی گئی . تفصیلات کے مطابق 2 روز قبل پشاور ہائی کورٹ نے مفتی کفایت اللہ کی رہائی کے احکامات جاری کیے، جیل سے رہائی کے بعد مفتی کفایت اللہ نے بھرے مجمع سے خطاب کیا اور دعویٰ کیا کہ جب مجھے پکڑا گیا تو مجھے 14 دن قرنطینہ میں رکھا گیا، 14 ویں دن بعد ڈاکٹر نے کہا کہ آپ بالکل ٹھیک ہو، آپکو کرونا نہیں ہے .

اسکے بعد ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آئی جنہوں نے کرونا کٹس پہن رکھی تھیں، انہوں نے میرا کرونا ٹیسٹ کرنے کی کوشش کی تو میں نے انکار کردیا اور کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں پھر وہ ڈاکٹر چلے گئے.ڈاکٹروں کے جانے کے کچھ دن بعد ڈاکوؤں کی ایک ٹیم جیل میں آئی. انہوں نے ڈاکٹروں والا لباس پہن رکھا تھا اور انہیں ڈاکٹر بناکر جیل میں لایا گیا تھا لیکن دراصل یہ لوگ ڈاکو تھے. یہ لوگ کرونا وائرس میرے جسم میں ڈال کر مجھے ختم کرنے کیلئے آئے تھے. انہوں نے میرے جسم میں کرونا کے جراثیم ڈالنے کی کوشش کی.میں نے انکار کردیا اور کہا کہ مجھے ختم کردو اور پھر میرے جسم میں کرونا کے جراثیم داخل کردو، میرے جیتے جی تم لوگ کرونا کے جراثیم میرے جسم میں داخل نہیں کرسکتے.انہوں نے کوشش کی کہ تین آدمی مجھے پکڑ لیں اور چوتھا آدمی کرونا کے جراثیم میرے اندر داخل کردے .

جب انہیں بتایا گیا کہ جیل کے قیدیوں کو پتہ چل گیا ہے کہ مفتی صاحب کے جسم میں کرونا کے جراثیم ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے اور وہ مفتی صاحب کے حق میں بھوک ہڑتال اور احتجاج کریں گے اور مفتی صاحب کو مرنے نہیں دیں گے.یہ سنتے ہی وہ میرے اندر جراثیم ڈالے بغیر واپس چلے گئے اور آج اللہ کے فضل سے آپکے سامنے زندہ ہوں.مفتی کفایت اللہ کا مزید کیا کہنا تھا؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیئے :

..


Top