کل سے پنجاب میں یومیہ6 ہزار ٹیسٹ کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کل سے پنجاب میں یومیہ6 ہزار ٹیسٹ کیے جائیں گے، صوبے میں سمارٹ سیمپلنگ کا آغاز بھی کردیا، پہلے مرحلے میں6 شہروں کے میڈیا ہاؤسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، انتظامی دفاتر، ہیلتھ ورکرز، ٹی بی، ایڈز کے مریضوں، حاملہ خواتین اورجیلوں میں قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ کئے جائیں گے . انہوں نے وزیراعلیٰ آفس میں ویڈیولنک پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں اس وقت 62 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی 8 بی ایس ایل تھری لیب فنکشنل ہو چکی ہیں اور اب روزانہ 6 ہزار کورونا ٹیسٹ کرسکیں گے،گزشتہ روز پنجاب حکومت نے 3700 ٹیسٹ کئے ہیں .

 پنجاب میں اس وقت کورونا ٹیسٹنگ کٹس،پی پی ایز کٹس او ربیڈز کی کوئی کمی نہیں. وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بتایا کہ بیرون ممالک سے متعدد فلائٹس کے ذریعے سینکڑوں پاکستانی روزانہ وطن واپس آ رہے ہیں، ہوٹلوں اور دیگر قرنطینہ مراکز میں ایس او پی کے مطابق ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے. بیرون ملک سے آنے والے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کومتعلقہ صوبائی حکومتو ں سے رابطہ کر کے ائیرپورٹ سے ہی ان کے صوبوں میں بھیج دیا جائے گا. صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے اضلاع میں روانہ کیا جائے گا اورانہیں 48 گھنٹوں میں ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹیو آنے کی صورت میں گھر بھیج دیا جائے گا. مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب میں اب تک کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 6854 ہے اور اب تک 2206مریض صحت یاب ہوچکے ہیں. صوبے میں سمارٹ سیمپلنگ کا آغاز کردیا ہے. ابتدائی طو رپر لاہور، راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ ،گجرات اور فیصل آباد میں سمارٹ سیمپلنگ کا آغاز کیا گیا ہے. سمارٹ سیمپلنگ کے تحت میڈیا ہاؤسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، انتظامی افسران کے دفاتر، ہیلتھ ورکرز، ٹی بی اور ایڈ ز کے مریضوں، ہسپتالوں میں زیر علاج حاملہ خواتین اورجیلوں میں بند قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ کئے جائیں گے. سمارٹ سیمپلنگ کے تحت اب تک 2144افراد کے نمونے لئے جا چکے ہیں. پنجاب میں 9ہزار سے زائد صنعتی یونٹس کو کام کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے. مزید صنعتی یونٹس کو کام کرنے کی اجازت دیں گے اور اس ضمن میں سفارشات تیار کر لی گئی ہیں- روڈ سیکٹراور بلڈنگ کے علاوہ کنسٹرکشن سے متعلقہ دیگر انڈسٹری کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ سفارشات وفاقی حکومت کو پیش کریں گے. ایکسپورٹ سیکٹر سے منسلک فیڈنگ انڈسٹری کو بھی کھولنے کی سفارش کی گئی ہے. پاور لومزاورایسی تمام فیکٹریز جن کے اندر اپنی لیبر کالونیاں موجود ہیں انہیں بھی کھولنے کی درخواست کی گئی ہے-آئرن اینڈ سٹیل انڈسٹری اور ہوم اپلائسسز انڈسٹری کو کھولنے کے بارے میں سفارش کی گئی ہے.مارکیٹوں اور بازاروں کو زونز میں تقسیم کر کے مختلف ایام میں کھولنے کی تجویز وفاقی حکومت کو پیش کی گئی ہے. ضلعی ا نتظامیہ ، انجمن تاجران، چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مارکیٹیں اور بازار کھولنے کی اجازت کا فیصلہ کیا جائے گا.کاروبار سے متعلقہ امور کاجائزہ لینے کے لئے صوبائی وزیر صنعت کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے .ایس او پیز کی خلاف ورزی پر انڈسٹری کوبند کر دیاجائے گا- بیرون ملک سے آنے والے دوسرے صوبوں کے افراد کومتعلقہ صوبائی حکومتو ں سے رابطہ کر کے ائیرپورٹ سے ہی ان کے صوبوں میں بھیج دیا جائے گا- صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے اضلاع میں روانہ کیا جائے گا اورانہیں 48گھنٹوں میں ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹیو آنے کی صورت میں گھر بھیج دیا جائے گا.

..


Top