لندن میں مقیم پاکستانی خاتون ڈاکٹر کورونا کیخلاف جنگ میں جان کی بازی ہار گئی

      لندن((قدرت روزنامہ)عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے سبب برطانیہ میں ایک پاکستانی خاتون ڈاکٹر میمونہ رعنا دار فانی سے کوچ کر گئی ہیں . کوئین اسپتال لندن کی وہ پہلی پاکستانی خاتون ڈاکٹر ہیں جنہوں نے برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جان کی قربانی دی ہے .

برطانیہ میں ڈاکٹر میمونہ رعنا سے قبل ڈاکٹر ناصر خان اور ڈاکٹر حبیب زیدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر اپنی زندگیوں کی بازیاں ہار چکے ہیں.ڈاکٹر  میمونہ رعنا کوئین ہسپتال لندن میں فزیو تھر اپسٹ ٹرینی کے طورپرخدنات سر انجام دے رہی تھیں. مرحومہ سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈی آئی جی مقصود الحسن کی ہمشیرہ تھیں.لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر میمونہ رعنا کے خاوند بھی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں. مرحومہ اپنے خاوند ڈاکٹر عظیم قریشی کے ہمراہ گزشتہ 15 سال سے برطانیہ میں مقیم تھیں. ان کی ایک آٹھ سال کی بچی بھی ہے.میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر میمونہ رعنا میں آٹھ اپریل کو کورونا کی علامات ظاہر ہوئی تھیں. اس ضمن میں جب ٹیسٹ کرایا گیا تو ڈاکٹر عظیم قریشی اور ڈاکٹر میمونہ رعنا دونوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی.رپورٹس کے مطابق گیارہ اپریل کو ڈاکٹر میمونہ رعنا کو طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 16 اپریل کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں.عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 61 ہزار ہوچکی ہے جب کہ 21 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں.برطانوی ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق 100 سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں..ڈاکٹر میمونہ رعنا کے انتقال پراسپتال کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر اولیورشینلے نے کہا ہے کہ مرحومہ ہمارے ٹرسٹ ہسپتال کی قابل، فرض شناس اور اپنے پیشے سے مخلص شخصیت کی مالک تھیں.پاکستانی ڈاکٹر میمونہ رعنا کے انتقال پراسپتال کے عملے اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سمیت دیگر نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے.

..


Top