اپنے پیاروں کو کھو دینے والے لاک ڈاؤن میں کس طرح اپنا غم ہلکا کر رہے ہیں؟

(قدرت روزنامہ)کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری اور ان تمام افراد کی معمولاتِ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے جو اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے پر غم سے نڈھال ہیں . لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ ’سماجی دُوری اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے پیاروں کا نقصان اٹھانے والے لواحقین کا غم دگنا ہوجاتا ہے‘ .

مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ، 'ہم لواحقین سے کہہ رہے ہیں کہ تعزیت کے لیے عزیز و اقارب اکٹھا نہیں ہوسکتے، بس اسکائپ یا زوم جیسے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو دلاسا ہی دے سکتے ہیں، مگر وہ ایک دوسرے سے گلے لگ کر غم کو کم کرنے کی حالت میں نہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا کوئی عمل ان حالات میں ممکن نہیں جن سے لواحقین کا درد کم ہوتا ہو. وہ اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے ہیں لیکن انہیں اپنے دوست احباب سے ملنے اور ایک دوسرے کا غم ہلکا کرنے کی مناہی ہے'. رواں ماہ کے شروع میں جب *سارہ اپنی 65 سالہ والدہ کی اچانک وفات پر دل شکستہ ہوئیں تب لاک ڈاؤن ان کے لیے ایک خدائی مدد سے کم محسوس نہ ہوا. وہ کہتی ہیں کہ، 'اس طرح ہمیں تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا سامنا نہیں کرنا پڑا'. وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’یوں انہیں ہر ایک کو اس سوال کا جواب دینا نہیں پڑا کہ ان کی والدہ کا انتقال کیسے ہوا؟‘ انہوں نے بتایا کہ، 'اس سوال کا جواب دے دے کر ذہن پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے'. تحریر جاری ہے‎ ہیومن ریسورس کے پیشے سے وابستہ 39 سالہ سارہ کہتی ہیں کہ، 'یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ وہ ارادتاً ایسا کر رہے ہیں بلکہ میں اب بھی خود کو اپنی والدہ کے بچھڑ جانے کی حقیقت کو تسلیم کرنے کی کوشش کررہی ہوں‘. وہ اور ان سے 3 سال چھوٹے بھائی دُکھ بھرے وقت سے ایک بار پھر گزر رہے ہیں. کیونکہ 10 سال پہلے ان کے والد بھی اسی طرح اچانک نیند میں وفات پاگئے تھے. انتقال سے قبل ان کے والدین کی طبعیت بالکل ٹھیک تھی. دونوں مرتبہ ان کے بھائی نے اپنے والد اور والدہ کو مردہ حالت میں پایا تھا. ماہرِ نفسیات ڈاکٹر آشا بدر کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات اور اس کے علاوہ بیرونی سپورٹ سسٹم یعنی لوگوں کے میل جول، متوفی کے بارے میں باتیں کرنے، دوستوں اور رشتہ داروں کو رونے پر اکسانے، انتظامات، کھانے پینے کے بندوبست اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں عملی سہارے کی فراہمی جیسے عوامل کی عدم موجودگی کی وجہ سے لواحقین اور اہلِ خانہ کا دُکھ سے نکلنے کا عمل شدید متاثر ہوسکتا ہے. آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ڈاکٹر عائشہ میاں اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'کسی پیارے کی وفات پر غم منانے کی اس روایت سے لواحقین کو سکون اور دکھ کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے. ثقافتی رسومات، روایات، گلے لگ کر کا کندھا تھپتھکاکر ہمت دینا، آخری الفاظ، یہ خیال کہ آپ انہیں سہارا دینے اور انہیں الوداع کہنے کے لیے موجود ہیں، یہ سب آنے والے ہر دکھ کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتے ہیں'. انہوں نے مزید کہا کہ، 'پشیمانی، قربت میں کمی، متوفی کو ان سے محبت کی انتہا بتانے میں ناکامی کے باعث بچھڑ جانے کا پیچیدہ دکھ جنم لیتا ہے اور بعض اوقات انہیں ڈپریشن کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑجاتا ہے'. وہ مزید کہتی ہیں کہ، 'لوگ آج کل ایسا ہی محسوس کر رہے ہیں. مجھے ایسے مریضوں اور دیگر افراد سے اپنے عمر رسیدہ پیاروں سے منسلک ذہنی بے چینی کی کیفیات کے بارے میں بہت کچھ سننے کو ملا ہے. اپنے پیاروں سے دُور امریکا اور برطانیہ میں مقیم فزیشن دوستوں اور ساتھی ڈاکٹروں سے تنہائی میں مرنے والے لوگوں کی کئی کہانیاں سنی جو بہت دردناک ہیں اور اس حوالے سے کچھ بھی نہ کرنے کی لاچارگی دل دکھانے والی ہے'. معمول کے حالات کی بحالی ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ ایک طرف جہاں اپنے پیارے کھو دینے والوں کو تسلی ملنے والوں کی کمی کا سامنا ہے تو وہیں دوسری طرف غم کو برداشت کرنے کا اندرونی فطری میکینزم بھی محدود ہوا ہے. ان کا کہنا ہے کہ غم کے ابتدائی دنوں کے بعد معمول کی زندگی کی طرف دھیرے دھیرے لوٹنا بھی دکھ کی کیفیت سے نکلنے کے عمل کا حصہ ہے. 'کام پر یا کلاسیں لینے کے لیے جانا، سماجی میل جول، روزمرہ کی سرگرمیاں جیسے بچوں کو اسکول لے جانا اور واپس لانا، سودا سلف لانا اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرنا، اپنے مشاغل کی طرف لوٹنا یا اختیار کرنا اس عمل میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے'. انہوں نے ساتھ یہ بھی وضاحت کی کہ سماجی فاصلے کی فوری ضرورت اور عوامی سرگرمیاں محدود ہوجانے کی وجہ سے اپنوں سے بچھڑ جانے والوں کو اپنی توجہ بانٹنے میں دشواریوں کا سامنا ہے. ڈاکٹر بدر نے اپنی ایک کلائنٹ کی مثال دی جنہوں نے انہیں بتایا تھا کہ لاک ڈاؤن سے بس کچھ ہی دن پہلے اپنے قریبی رشتہ دار کی موت کے بعد کس طرح روز مرہ کے معمول یعنی سودے سلف کی خریداری، عمر رسیدہ والدین کے پاس جانے اور کبھی کبھار دوستوں سے ملاقات کرنے سے انہیں حوصلہ ملتا رہا. ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ اداس خیالوں اور ہر وقت ذہن پر سوار متوفی کی یادوں میں آنے والے ان وقفوں سے انہیں دکھ پر سبقت پانے میں کافی مدد ملی. مگر موجودہ وقت میں چونکہ ناصرف تمام بیرونی سرگرمیاں تھم گئی ہیں بلکہ والدہ کے پاس آنا جانا بھی بند ہوگیا ہے اس لیے ان کے غم اور ذہنی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے. مگر سارہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے. ’میں اس وقت ویسے بھی گھر پر بیٹھ کر ہی کام کرنا پسند کرتی. لوگوں کا سامنا کرنا اور ان کے سوالوں کا جواب دینا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے. گھر پر رہ کر میں اپنی رفتار سے کام کرسکتی ہوں اور یوں مجھے دشواریوں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا. سارہ اس وقت لاک ڈاؤن سے پہلی والی اپنی معمولاتِ زندگی کو بھی جاری رکھنا پسند نہیں کررہیں. وہ کہتی ہیں کہ ’اس طرح مجھے بار بار اپنی والدہ کی یاد ستاتی اور موجودہ حالات میں مجھے اپنے پیاروں کے قریب رہ کر اپنا غم ہلکا کرنے میں مدد مل رہی ہے‘. 65 سالہ *سکینہ کے شوہر کو دنیا سے رخصت ہوئے 2 ہفتے گزر چکے ہیں. وہ کہتی ہیں کہ، 'لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں زیادہ پُرسکون محسوس کر رہی ہوں کہ اس وقت تعزیت کرنے والوں کا تانتا نہیں بندھا ہوا. میں اپنی ذات تک محدود رہنا پسند کرتی ہوں اور مجھے تنہائی کے لمحات ہی پسند ہیں. شوہر کی موت کے بعد مجھے یہ تسلی ملی ہے کہ وہ مشکلات سے آزاد ہوکر ایک بہتر جہان میں جا بسے ہیں. وہ بہت زیادہ بیمار تھے اور ڈاکٹروں نے مجھے اس وقت کے لیے پہلے سے ہی تیار کردیا تھا'.

..


Top