کسی کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا، پانی، بجلی اور گیس کے بل نہیں لیے جائیں گے، 50 ہزار سے کم تنخواہ والوں کو مکمل تنخواہ دی جائے گی، کابینہ نے کورونا ریلیف آرڈیننس منظور کرلیا

کراچی (قدرت روزنامہ)سندھ کابینہ نے کورونا ریلیف آرڈیننس منظور کرلیا ہے، آرڈیننس کے مطابق کسی کو نوکری سےنہیں نکالا جائے گا . تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ نے سندھ کووڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020 منظور کرلیا ہے جس کے تحت صوبے بھر میں کسی کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا .

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کابینہ نے آج دو قانونی مسودے منظورکیے ہیں جس میں جرمانوں میں اضافہ اور کووڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس شامل ہے.انہوں نے کہا کہ پانی، بجلی اور گیس کے کم لیول کے بل نہیں لیےجائیں گے، 50 ہزار سے کم تنخواہ والوں کو مکمل تنخواہ دی جائےگی جب کہ تعلیمی ادارے 80 فیصد فیس لے سکیں گے.مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ آرڈیننس کے تحت 50 ہزارروپے سے کم کرائے والوں سے کرایا نہیں لیا جائےگا جب کہ 50 سے زیادہ کرایہ والوں کو بقیہ رقم بعد میں دینی ہوگی اور بیوہ یا ضعیف افراد اگر مالک مکان یا دکان کےمالک ہیں تو انہیں کرایہ دینا ہوگا.مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ حکومت تو بجلی اور گیس کی مد میں عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے لیکن وفاقی حکومت ایسا نہیں چاہتی، وفاقی حکومت کوملک بھرمیں بجلی و گیس پر ریلیف دینا چاہیے. سندھ کابینہ کے وزراء نے 30 جون تک تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے. صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراطلاعات سندھ ناصرحسین نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ملک میں جاری کورونا وائرس کی صورتحال کے مدنظر تمام صوبائی وزراء نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم تنخواہیں نہیں لیں گے، تمام وزراء 30 جون تک کی تنخواہ نہیں لیں گے.ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی صوبائی وزراء ایک مہینے کی تنخواہ پہلے ہی ریلیف فنڈ میں دے چکے ہیں لہذا صورتحال میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے ہم سب سے نے تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے.

..


Top