ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے اختتام پر جمعہ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تعلقات میں باہمی فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا اور ان کو وسعت دی جائے گی . دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کا تحفظ کیا جائے گا .

ضرور پڑھیں: کاروبار کے اختتام پر ڈالر سستا ہو گیا اور سٹاک مارکیٹ 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ، خوشخبری

اعلامیہ میں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کے جذبے کی بھی یاددہانی کی گئی ہے. تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں پاک ترک اعلی سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کے میکنزم پر زور دیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف لڑائی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا. اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت اور تہذیب سے نہیں جوڑا جا سکتا، دونوں ممالک نے دہشتگردی اور نسل پرستانہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا. مزید تفصیلات کے مطابق پاکستان اور ترکی نے دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو سدا بہار اور باہمی مفید سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا. دونوں ممالک نے تجارت دفاع انفراسڑکچر ٹرانسپورٹ کمیونیکیشن اور زراعت کے شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام اور حکومتوں کے درمیان مثالی تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدہ ، تاریخ اور ثقافتی ورثہ میں جڑے ہوئے ہیں دونوں خطوں کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے 20 ویں صدی کے اوائل میں اپنے ترک بھائیوں کی حمایت کی جبکہ ترکی نے ہر طرح کے چیلنج میں پاکستان کی ثابت قدمی سے مدد کی دونوں ممالک نے برادرانہ تعلقات کے تحفظ اور مشترکہ ورثہ کے طور اسے اگلی نسلوں تک منتقل کرنے پر اتفاق کیا اور پاکستان اور ترکی کے ڈکلیئریشن آف سٹریٹجک اکنامک فریم ورک اینڈ ایکشن پلان کو حتمی شکل دیے جانے کا خیر مقدم کیا گیا ، ہر طرح کی دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کا عزم کرتے ہوئے پاکستان اور ترکی نے دیرینہ تنازعات کے حل اور غیر ملکی قبضہ کے خاتمہ کے ذریعہ دہشت گردی کے بنیادی اسباب دور کرنے کا اعادہ کیا دونوں ممالک نے اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ دہشت گرد اور نسل پرست حملوں کی شدید مذمت کی دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کو بڑے سیاسی فورم کی حیثیت سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا جو تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات میں موئثر رہنمائی کرے گی اور اس کے فیصلوں پر تیزی سیعمل درآمد کرے گی .

دونوں ممالک معاہدوں ایم اور یوز اور پروٹوکول ز کا جائزہ ، اپ ڈیٹ اور ان میں مناسب ترمیم لا سکیں گے پاکستان اور ترکی کی خارجہ وزارتوں کے درمیان جاری مشاورت کو مزید تیزی سے فروغ دیا جائے گا اور نئے شعبوں میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے گی. دونوں ممالک نے یہ واضح کیا کہ 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ اقدامات سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوگی اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا اس لئے ضروری ہے کہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لئے صورتحال کو حل کیا جائے پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل مربوط مذاکراتی عمل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اس ایشو پر پاکستان نے ترکی کے اصولی موئقف اور اس کی ثالثی کی پیشکش کی گہری تعریف کی افٖغانستان سے متعلق دونوں ممالک نے یہ واضح کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام افغان عوام کی زیر قیادت انہی کے ہاتھوں امن عمل سے حاصل کیا جاسکتا ہے ترکی نے افغان امن عمل کے لئے پاکستان کی حمایت کی تعریف کی پاکستان نے ان مقاصد کے حصول کے لئے ترکی کی کوششوں کی تعریف کی اور ہارٹ آف ایشیا وزارتی کانفرنس میں منظور کئے جانے والے اعلامیہ کا خیر مقدم کیا مسئلہ قبرص پر دونوں ممالک نے جزیرہ کی دونوں کمیونیٹیز کی سیاسی برابری کی بنیاد پر قبرص کے مسئلہ کے جامع حل کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تاکہ مشرقی بحیرہ روم میں امن و استحکام کو فروغ حاصل ہو دونوں ممالک نے ایٹمی عدم پھیلائو کے مقاصد کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا. دونوں اطراف نے دونوں ممالک کیدرمیان دوطرفہ تجارت اور تعاون کو فروغ دینے کے اقدام کے طور پر ، نقل و حمل کے تمامذرائع یعنی روڈ ، ریل ،بحری اور فضائی شعبوں میں دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا اور مواصلات اور ٹرانسپورٹ کے مختلف شعبوںکی سرگرمیوں میں اضافہ کے لئے جن میں سڑکیں ، ریل ،فضائی ، بحری، پوسٹل اور آئی ٹی اور ٹیلی کام دستیاب ہیں،میں اضافہ کے لئے تمام مطلوبہ طریقہ کار وضع کرنے،دوطرفہ اور کثیر الجہتی ٹرانسپورٹ معاہدوں کے نفاذ کے اپنے عزم میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا . ترکی نے بین الاقوامی اقوام متحدہ- کے ٹی آئی آر کنونشن 1975 اور سی ایم آر کنونشن سے پاکستان کے الحاق کو سراہا اور ان کا خیرمقدم کیاجبکہ ان کنونشنز نے عالمی سطح پر قبول شدہ اور تسلیم شدہ ضمانت دینے والے طریقہ کار کے ساتھ پاکستان کے طریقہ کار اور معیارات کو ہم آہنگ کرنے کی راہ ہموار کی ہے.دونوںاطراف نے پہلے ہی دستخط شدہ دوطرفہ روڈ ٹرانسپورٹ معاہدے کے دائرہ کار کے تحت ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے جون 2020 تک اسلام آباد - تہران استنبول (آئی ٹی آئی) روڈ کوریڈور پر کم از کم 10 ٹرکوںکو آزمائشی بنیادوں پر چلانے کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ہے. اس سے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملے گی.ترک کمپنیوں کے ذریعہ پاکستان کی شاہراہوں اور موٹر ویز کے امکانی منصوبوں کو تعمیر کرو چلائو اور منتقل کرنے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر چلانے پر غور کیا جائے گا . دونوں اطراف نے مینوفیکچرنگ ، بحالی ، اور مرمت کے علاوہ بنیادی طور پر بزنس پلاننگ ، مینجمنٹ ، ریلوے آپریشن ، ریلوے تعمیراتی ڈھانچے ، ریلوے میں آئی ٹی اینڈ ٹیکنالوجی ، صلاحیت سازی وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے امکانات کو تلاش کرنے پر اتفاق کیا. مفاہمت کی یادداشت کے دائرہ کار میں انجنوں ، مال بردار ویگنوں اور مسافر کوچوں بارے جس اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل میں دستخط کئے گئے ہیں اس کو اسٹرٹیجک اکنامک فریم ورک میںاجاگر کیا گیا ہے . دونوںاطراف نے ریلوے میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے فعال طور پر مصروف عمل ہونے کی تصدیق کی ہے .

ترکی نے اپنی لاجسٹک کمپنی بالو کے ذریعے پاکستان ریلوے اور یونین آف چیمبر آف کامرس اینڈ کموڈٹی ایکسچینج (ٹی او بی بی) کے مابین ایم او یو کی تجدید کے بارے میں پاکستان کی تجویز کے امکان کو تلاش کرنے پر اتفاق کیا. دونوں اطراف نے یورپ اور اس سے آگے خطے کے انضمام کے لئے آئی ٹی آئی ٹرین کی اہمیت کو تسلیم کیا. دونوں فریقوں نے جلد سے جلد آئی ٹی آئی ٹرین کی بحالی کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا. اعلامیہ کے مطابق پاکستان ترک کمپنیوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے وسائل اور بی او ٹی / پی پی پی کی بنیاد پر مالی امداد سے چلنے والے ریلوے کے امکانی منصوبوں کی بولی کے عمل میں حصہ لے. جبکہ اس ضمن میں ترکی اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی اور مقامی ترسیلات زر اور آئی ٹی جدید خدمات کے شعبے میں تعاون کیا جائے گااور ایکسپریس اور لاجسٹک سروسز اور ای کامرس کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین آئی سی ٹی کی بنیاد پر پوسٹل خدمات میں تعاون بڑھایا جائے گا.میری ٹائم ایجوکیشن اینڈ ٹریننگز ، سمندری تجارت اور پورٹ مینجمنٹ میں تجربات کے تبادلہ اور تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا جبکہ ازمیر پورٹ آف ترکی اور کراچی پورٹ کے جغرافیائی محل وقوع کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو ایک موثر تجارت اور کارگو ہینڈلنگ کے لئے ہم آہنگ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے. ہوابازی کیشعبہ میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لئے دونوں اطراف 2015 میں دستخط شدہ ایم او یو کی ضمیمہ کو حتمی شکل دے سکتے ہیں. باہمی متفقہ شیڈول کے مطابق ترکی کی دعوت پر ترکی میں آئندہ اجلاس کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان ٹریفک کے حقوق اور تعدد پر تبادلہ خیال کرنے پر اتفاق کیا گیا. مذید برآں دونوںاطراف نے ترکی پاکستان مشترکہ کمیشن برائے سیاحت کے چوتھے اجلاس کے ا انعقاداورمیڈیا وفد کے باضابطہ تبادلے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ،انفارمیشن ، ثقافت ، سیاحت ، فلم اور ڈرامہ کے شعبے میں باہمی تعاون کے ساتھ لوگوں کو باہمی روابط اور دونوں ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے . فلمی تیاری میں مشترکہ منصوبوں کا آغاز کرنیاور ایک دوسرے کی مارکیٹوں میں باہمی بنیادوں پر فیچر فلموں کی ریلیز کرنے،پروگراموں ، معلومات اور مہارت کو باہمی بنیادوں پر تبادلہ کرنے کے لئے ٹی آر ٹی اور پی ٹی وی سی، پی بی سی کے مابین تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا . پاکستان اور ترکی نے ثقافتی ورثے کی بحالی کے لئے تعاون،پاکستان میں سیاحت کے مقامات کی ترقی اور معیاری منصوبہ بندی کرنے کے لئے مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے،سیاحت کے شعبہ کے فروغ اور مارکیٹنگ سے متعلق تکنیکی معلومات اور اعانت فراہم کرنے ثقافتی گروپوں اور سیاحوں کے تہواروں کیتبادلوں پر بھی اتفاق کیا اس کے علاوہ آثار قدیمہ کے شعبوں کے ساتھ ساتھ آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کے ساتھ ساتھ عجائب گھروں کی بحالی اور بحالی کے شعبوں میں مہارت کے تبادلے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا . اعلامیہ کے مطابق دونوں اطراف نے مالی اور عملے کے وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے دونوں ممالک کی قابل اطلاق قانون سازی کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیوں ، تکنیکی اور پیشہ ورانہ اداروں اور دیگر تعلیمی اداروں کے مابین تبادلے کو فروغ دینے اور اس سلسلے میں اعلی تعلیم کے وظائف پر تعاون جاری رکھنے اور تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت یافتہ انسٹی ٹیوٹ کے مابین تعلقات کو فروغ دینیپر بھی اتفاق کیا . مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مزید دو مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو کہ دفاعی صنعت اور زراعت اور پانیکے شعبہ میں تشکیل دیئے جائیں گے .اس کے علاوہاعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے مشترکہ ورکنگ گروپ مخصوص پروگراموں اور منصوبوں کی تیاری کے لئے اپنا کام جاری رکھیں گے.اس سلسلے میں ، مشترکہ ورکنگ گروپس ، انقرہ ، اسلام آباد میں ، یا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کم سے کم دو مرتبہ اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاسوں سے پہلے اجلاس کریں گے. اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا اگلا اجلاس انقرہ میں ہوگاجس کے لئے سفارتیذرائع سے تاریخوں پر اتفاق کیا جائے گا.دونوں ممالک نے سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے، دفاعی آلات کی باہمی خریداری ، مشترکہ ریسرچ ڈویلپمنٹ اور پروڈکشن وینچرز پر اتفاق کیا اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی تخفیف اسلحہ، ایٹمی عدم پھیلائو ، علاقائی اور عالمی سلامتی برقرار رکھنے اور ایک دوسرے کے خطہ سمیت دنیا میں سٹریٹجک استحکام کے فروغ کی ٖضرورت پر زور دیا. مزید برآں پاکستان اور ترکی نے توانائی کے شعبہ میں تعاون میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا.

..

ضرور پڑھیں: ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔۔ عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے اختتام پر ایسا اعلان کہ پاکستانی قوم اور امت مسلمہ کا دل خوش ہو گیا


Top