صبح اور شام صرف 10 مرتبہ یہ دُعا پڑھنی ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک کے اعمال جاننا چاہیئے کہ انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ غروب آفتاب کے قریب مسجد میں جانے کے لیے جلدی کرے اور جب سورج پر زردی آجاے تو بہت ہی اچھا ہوگا اگر اس وقت تسبیح و استغفار میں مشغول رہے کیونکہ اس وقت کی بھی وہی فضیلت ہے جو طلوع آفتاب سے پہلے کے وقت کی فضیلت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے . اس دعا کو پڑھنے سے ہوگا کیا؟ ایک بار اس اردو کے نیچے والے ویڈیو کو دیکھ لیں ہو سکتا ہے آپ کی زندگی بدل جائے کل سو کر اٹھے تو گاڑی بنگلہ بھی ہو سکتا ہے .

رزق میں برکت کے 10 اعمال برکت وہ چیز ہے جس کی ضرورت ہوا اور پانی کی طرح ہر آدمی کو ہے. اس لیے کہ دنیا میں موجود ہر چیز اسباب راحت تو مہیا کر سکتی ہے، مگر راحت نہیں. دنیوی ترقی سے خوشی کے اسباب تو جمع کیے جا سکتے ہیں، مگر وہ اسباب، خوشی عطا کرنے سے قاصر ہیں. ان اسباب کی کثرت تو ہمارے اختیار میں ہے، مگر ایسی برکت جس سے ہر حاجت پوری ہوجائے، یا کم اسباب میں زیادہ کام ہو جائے ، یہ صرف اللہ تعالی کے عطا کرنے سے ہی حاصل ہو گی. قرآن و حدیث سے دس ایسے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، جن کو اختیار کرنے سے ان شاء اللہ ضرور برکت عطا ہو گی. ٭… برکت کا مطلب دولت کی کثرت نہیں، بلکہ ’’کفایت ‘‘ ہے،یعنی ضرورت کے لیے کافی ہو جانا ٭… اے ابن آدم! میری عبادت میں منہمک رہو،

میں تیرا دل غنا سے بھردوں گا اورتمہاری محتاجی کا دروازہ بند کروں گا 1 توبہ واستغفار 2 اللہ سے ڈرنا، گناہوں سے بچنا 3 عبادت میں انہماک 4 توکل علی اللہ 5اللہ کے راستے میں خرچ کرنا 6طالب علموں پر خرچ کرنا 7رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک 8کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک 9یکے بعد دیگرے حج وعمرہ کرنا 10اللہ کے راستے میں ہجرت توبہ واستغفار قرآن پاک میں کئی مقامات پر توبہ واستغفار کے ذریعے رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا ذکر ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے:’’میں نے ان (قوم)سے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، تمہیں مال واولاد کی فراوانی بخشے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا.‘‘ ( النوح، آیت:10،11) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بکثرت استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں. اور اسے ایسی راہوں سے رزق عطا فرماتے ہیں، جس کا اس کے وہم وگمان میں گزر تک نہیں ہوتا.‘‘ (ابوداؤد: 1518) توبہ واستغفار کی حقیقت یہ ہے کہ انسان گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے، اپنے کیے پر شرمندہ ہو، آئندہ ترکِ معصیت کا پختہ عزم کرے اور جہاں تک ممکن ہواعمالِ خیر سے اس کا تدارک کرے. اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہوتو اس کی توبہ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب حق سے معاملہ صاف کرے. ان شرائط کے بغیرتوبہ بے حقیقت ہے. اللہ سے ڈرنا، گناہوں سے بچنا ’’تقویٰ‘‘ اللہ کے احکام پر عمل او رشرعا ممنوع چیزوں سے اجتناب کا نام ہے. تقوی ان امور میں سے ایک ہے، جن سے رزق میں برکت ہوتی ہے. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے راہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا.‘‘ (سورہ طلاق،آیت: 3،2)دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے، تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا اس لیے ہم نے ان کی کمائی کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا.‘‘ (سورۃ الاعراف: 96) برکت کا مطلب دولت کی کثرت نہیں، بلکہ ’’کفایت ‘‘ ہے،یعنی ضرورت کے کافی ہو جانا. بہت سے لوگ کثرت مال کے باوجود معاشی تنگی کا رونا روتے ہیں او رمعاشی طور پر بہت سے بہ ظاہر درمیانے درجے کے لوگ انتہائی اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں. یہ فرق صرف برکت کی وجہ سے ہے.

عبادت میں انہماک اس سے مراد یہ ہے کہ عبادت کے دوران بندے کا دل اور جسم دونوں حاضر رہیں. اللہ کے حضور میں خشوع وخضوع کا پاس رکھے. اللہ کی عظمت ہمیشہ اس کے دل ودماغ میں حاضر رہے. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! میری عبادت میں منہمک رہو، میں تیرا دل غنا سے بھردوں گا اورتمہاری محتاجی کا دروازہ بند کروں گا، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تمہارے ہاتھوں کو کثرت مشاغل سے بھردوں گا او رتمہاری محتاجی کا دروازہ بندہ نہیں کروں گا.‘‘ ( ابن ماجہ،4107) توکل علی اللہ ارشاد باری ہے:’’جو اللہ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا، اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ (وقت)مقرر کر رکھا ہے.‘‘ (سورہ طلاق) حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اگر تم حسن وخوبی کے ساتھ اللہ پر توکل کرو، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے ، وہ صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کے وقت آسودہ ہو کر لوٹتے ہیں. ‘‘ (مسنداحمد: 205) توکل کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ کسبِ معاش کی تمام کوششوں کو ترک کر دیا جائے اورہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا جائے. خود حدیث مذکور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندوں کی مثال پیش کی ہے کہ وہ تلاشِ رزق میں صبح سویرے نکل جاتے ہیں. پرندوں کا صبح سویرے اپنے آشیانوں سے نکلنا ہی ان کی کوشش ہے. ان کی انہیں کوششوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو شام کے وقت آسودہ وسیراب واپس کرتے ہیں، لہٰذا اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اسباب اختیار کرنا عین تقاضائے شریعت ہے. اللہ کے راستے میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا اجر اس کے پیچھے آئے گا اور اللہ بہترین رازق ہے.‘‘ (سورۃ سبا:39) دوسری جگہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ اپنی طرف سے مغفرت او رفضل (رزق میں کشادگی اور برکت)کا وعدہ کرتا ہے ، اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم والا ہے.‘‘ (البقرہ:268) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :اے ابن آدم! خرچ کر، میں تیرے اوپر خرچ کروں گا.‘‘ ( ابن ماجہ)

..


Top