CORONAVIRUS
PAKISTAN
CONFIRMED CASES

2637

 

 

 

  • Deaths
    40
  • Sindh
    783
  • Punjab
    1069
  • Balochistan
    175
  • KP
    343
  • Islamabad
    68
  • GB
    190
  • AJK
    09

 

 

 


پشاور سے بڑا سیاسی تہلکہ : عاطف خان اور شہرام ترکئی کی کابینہ میں واپسی یقینی بنا دینے والی خبر آگئی

پشاور(قدرت روزنامہ)خیبرپختونخوا آج کل زبردست سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، وزراء اور اعلیٰ افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سکیموں و منصوبوں پر کام کی رفتار میں بھی تیزی دکھائی دے رہی ہے . وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے سینئر وزیر عاطف خان کی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد وہ خاصے پر امید ہیں اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ رواں ہفتے میں وہ خیبرکابینہ کا پھر حصہ بن جائیں گے .

وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی ہے اور گزشتہ روز مردان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ عاطف خان کا امتحان ختم ہو گیا ہے اور جلد آپ کو صوبائی کابینہ میں دکھائی دیں گے تاہم یہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ ان کے ساتھ فارغ ہونے والے دونوں صوبائی وزراء کی بھی واپسی ہو گی یا نہیں. دوسری اہم خبر انضمام شدہ قبائلی اضلاع میں جرگہ سسٹم کی بحالی کے حوالے سے ہے، ضلع خیبر میں دو روز قبل ہونے والی ایک پر وقار تقریب میں اس نئے نظام کا باقاعدہ اعلان کیا گیااور بتایا گیا کہ جرگہ سسٹم کا مقصد قبائلی باشندوں کے مسائل فوری حل کرنا ہے، بڑے بڑے قبائل کے درمیان طویل عرصے سے چلے آنے والے تنازعات جرگوں میں طے کئے جائیں گے، ہرتحصیل کی سطح پر مسائل کے حل کے لئے 50 مشران کو جرگہ کا رکن نامزد کیا جائے گا یوں چھوٹے بڑے متنازعہ امور تھانے کچہری میں جانے کے بجائے علاقائی طور پر ہی حل ہو جایا کریں گے. اس حوالے سے بعض قبائلی علاقوں میں یہ اعتراض سننے میں آیا ہے کہ جن اکثر افراد کو جرگے کا ممبر نامزد کیا گیا ہے اکثر تو جرگہ نظام سے نابلد ہیں دوسرا وہ مقامی قبائل سے بھی آشنا نہیں اور جرأت مندانہ فیصلہ کرنے

سے بھی عاری ہیں اس لئے جرگے میں ان کی نامزدگی سود مند ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو گی. صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان اعتراضات کا نوٹس لے اور جرگہ نظام سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے اسے شفاف اور شکوک و شبہات سے بالا تر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرے. کے پی کے کے حوالے سے اہم خبر بچوں سے بداخلاقی پر سخت سزائیں تجویز کرنے کے بارے میں ہے، حال ہی میں قومی اسمبلی میں نوشہرہ کی آٹھ سالہ بچی عوض نور کے وحشیانہ قتل کی بازگشت سنی گئی اور فلور آف دی ہاؤس پر اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بچوں کے ایسے شرمناک اور سفاکی سے قتل کے واقعات کو روکنے کیلئے زیادتی کے بعد قتل کرنے والوں کو نہ صرف سزائے موت دی جا ئے بلکہ سرعام پھانسی بھی دی جا نی چاہئے. یہ ایشو قبل ازیں خیبر کی صوبائی اسمبلی میں بھی زیر بحث آ چکا ہے جبکہ گزشتہ روز اس حوالے سے تخت بائی میں بچوں سے بداخلاقی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں بلا مبالغہ ہزاروں افراد شریک تھے جنہوں نے مردان، مالا کنڈ شاہراہ کو بند کر کے کئی گھنٹے تک حکومت کی توجہ اس اہم معاملے پر دلانے کی کوشش کی، گزشتہ روز چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کی جج ودیعہ مشتاق ملک نے ٹیوشن کے دوران بچے کو بد اخلاقی کا نشانہ اوراسکی ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے اسے جیل میں بند رکھنے کا حکم دیا جبکہ کیس میں نامزد دوسرے ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا گیا. کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر قرارداد ضرور آئی ہے لیکن اس پر پارلیمینٹ میں بحث ہونی چاہئے. یہ ذمہ داری وفاقی حکومت کی بنتی ہے کہ وہ بچوں سے بد اخلاقی یا تشدد کے معاملات پر تمام جماعتوں، قانونی حلقوں اور صوبوں کی مشاورت سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کرے، ہمیں ماورائے آئین کوئی اقدام نہیں کرنا چاہئے لیکن جو امور سخت سزاؤں پر مشتمل قانون سازی کے متقاضی ہیں ان سے چشم پوشی ہونی چاہئے.اہل خیبر کو سستی اور برق رفتار سفری سہولت کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے میٹرو منصوبے پر سیاست کی دبیز تہہ چھاتی دکھائی دے رہی ہے، ایک طرف تو صوبائی حکومت کی طرف سے آئے روز اس کے افتتاح کی نئی تاریخ دینے سے معاملات بگڑ رہے ہیں تو دوسری جانب ایف آئی اے، نیب اور عدالتوں میں کھینچا تانی کی صورت حال نے اس منصوبے سے تکمیل کے خواب چھین لئے ہیں. اب تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ اس بی آر ٹی منصوبے پرقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ چھڑ گئی ہے. مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بنائے گئے تینوں میٹرو منصوبے اپنے وقت پر مکمل ہوئے جبکہ پشاور بی آر ٹی اب تک نامکمل ہے، ہمارے منصوبوں پر کرپشن کے الزام لگے اور انہیں جنگلہ بس کہا گیا. دوسری جانب یہ بھی کوئی تعجب خیز نہیں کہ پی ٹی آئی نے خود ہی اپنے منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات رکوانے کے لیے حکم امتناعی لے رکھا ہے.شہباز شریف کے ٹوئٹ پر پرویز خٹک بھی میدان میں اتر آئے اور کہا کہ بی آر ٹی کی تعمیراتی لاگت 66 ارب روپے ہے، جو لاہور منصوبے سے اب بھی کم ہے، ہم جلد اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر افتتاح کرنے والے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ واقعی بی آر ٹی غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ ذمہ داراس پر دانستہ تساہل برت رہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان جب تک بی آرٹی میں ذاتی اور گہری دلچسپی لے کر اسے 24 گھنٹے کام کی بنیاد پر مکمل نہیں کروائیں گے شاید اس کے ثمرات پی ٹی آئی کی اس حکومت کے دور میں بھی عوام تک نہ پہنچ پائیں. ویسے تو صوبائی حکومت اس امر کا اپنے ہر اہم اجلاس میں تذکرہ ضرور کرتی ہے اور اس کا اعادہ بھی کیا جاتا ہے کہ میٹرو منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جانا چاہئے لیکن اس کا عملی مظاہرہ نہ جانے کیوں نہیں ہو پا رہا، ابھی دو روز قبل حکومت نے صوبے کی ترقی کیلئے جن 24 اہم منصوبوں کی منظوری دی ان میں بھی بی آر ٹی شامل ہے، مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر 90 ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا.

..


Top