سینیٹ ممبران کی “نسوار” کو پاکستانی برانڈز میں شامل کرنے کی تجویز

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وزارت تجازت کے حکام نے قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں آگاہ کیا ہے کہ ملتانیملتانی سوہن حلوہ، پشاوری چپل اور باسمتی چاول کے برانڈر کو دنیا بھر میں پیش کرنے کا جغرافیائی پلان تیار کر لیا گیا ہے . ساتھ ہی ساتھ تجویز کی گئی ہے کہ نسوار کو پاکستانی برانڈز میں شامل کیا جائے .

ضرور پڑھیں: وہ 5 پاکستانی برانڈز جن کے ملبوسات شہزادی کیٹ مڈلٹن کو پسند آئے، آپ بھی جانیے

اراکین سینیٹ کی جانب سے نسوار اور خٹک ڈانس کو بھی پاکستانی برانڈز میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ دیگر پاکستانی برانڈز کی اشیاء کو دنیا بھر میں پیش کرنے کے لئے جغرافیائی پلان بھی پیش کیا گیا ہے.

کمیٹی کا اجلاس سینیٹرمرزا محمد آفریدی کی زیرصدارت ہوا.چیئرمین (آئی پی او) کی جانب سے بتایا گیا کہ جغرافیائی قانون میں 80 قومی و علاقائی مصنوعات اور سروسز کی فہرست تیار کی گئی ہے. اسی موقع پر خیبرپختونخواہ حکومت کی جانب سے نسوار کو پاکستانی برانڈز میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی.سینیٹر شبلی فراز کی جانب سے پیشکش کی گئی کہ خٹک ڈانس اور نسوار کو پاکستانی برانڈز کا درجہ دیا جائے جس کے بعد ارکان کمیٹی کی جانب سے قہقہہ لگائے گئے. چیئرمین آئی پی او نے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ جغرافیائی قانون کا مسودہ 23 جنوری2018 کو پیش کیا گیا تھا جس کی منظوری20 اگست2019 کو دی گئی تھی

.واضح رہے کہ قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ نسوار اور پشاور کے مشہور خٹک ڈانس کو پاکستانی برانڈز کا درجہ دیا جائے تا کہ ان کو بھی انٹرنیشنل لیول پر جانا جائے.ان کی اس تجویز کو اراکین کی جانب سے قہقہہ لگا کر رد کر دیا گیا.دوسری جانب رپوٹ پیش کی گئی جس وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ملتانی سوہن حلوہ، پشاوری چپل اور باسمتی چاول کے برانڈر کو دنیا بھر میں پیش کرنے کا جغرافیائی پلان تیار کر لیا گیا ہے.

..


Top