ایرانی میزائل حملے میں زخمی ہونیوالے 11 امریکی سولجرز خوفناک بیماری کا شکار ہو گئے ، اس بیماری کا واحد علاج پاک فوج کے پاس کیا ہے ؟ دنگ کر ڈالنے والی خبر

لاہور (قدرت روزنامہ) ایران نے 8جنوری کو عراق میں جن دو امریکی بیسز پر میزائل داغے تھے ان کے نتیجے میں 11امریکی زخمی ہو گئے تھے . اس موضوع پر کل کے کالم میں تبصرہ کر چکا ہوں .

اگر زیادہ نہیں تو کم از کم 11امریکی سولجرز تو اس ایرانی حملے میں میدانِ جنگ سے باہر نکل گئے ہیں. نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ...... امریکی ذرائع کے مطابق ان کو بظاہر کوئی زخم نہیں آئے. نہ میزائل کا کوئی ٹکڑا ان کو لگا اور نہ میزائل حملے کے نتیجے میں کسی تعمیراتی نقصان کا فال آؤٹ ان پر گرا. کہا جا رہا ہے کہ یہ گیارہ امریکی دماغی عارضے کا شکار ہوئے ہیں. یہ ایک ایسا عارضہ ہے جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتا. اس کی وجہ سے نہ تو کسی سولجر کا خون بہتا ہے، نہ کوئی جسمانی عضو کٹ کر الگ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کاری زخم ایسا ہوتا ہے جو نظر آئے. یہ زخم دماغ کے اندر جس حصے پر لگتا ہے وہ ننگی آنکھ سے پوشیدہ رہتا ہے.لیکن اس سے دماغ کے اس مخصوص حصے کو ایسی پوشیدہ چوٹ لگ جاتی ہے جو انسانی جسم کو کسی بھی خارجی ردعمل کے قابل رہنے نہیں دیتی. عسکری ہتھیاروں کی پیچیدگی جوں جوں بڑھتی جا رہی ہے ان کے آپریشن کے لئے دماغ کے تیز تر اور عاجل (Rapid) ردعمل کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے. اگر دماغ کا یہ حصہ کام کرنا چھوڑ دے تو اسے نفسیاتی یا دماغی بریک ڈاؤن کہا جاتا ہے جو سپاہی کو محض گوشت پوست کا ایک ڈھیر بنا کر رکھ دیتا ہے. ان 11امریکی سولجرز کو اسی نفسیاتی بریک ڈاؤن کا سامنا ہے. ان کا علاج کیا جا رہا ہے لیکن جب تک نفسیات کا کوئی سپیشلسٹ ڈاکٹر ان کو فِٹ (Fit) قرار نہیں دے دیتا، ان سولجرز کو واپس یونٹ میں نہیں بھیجا جا سکتا اور ان کو زیرِ علاج ہی رکھا جائے گا.اس نفسیاتی بریک ڈاؤن کا انکشاف بھی پہلی بار دوسری عالمی جنگ میں ایک ایسے حادثے سے ہوا جس میں دو امریکی سولجر شامل تھے.

ہوا یہ تھا کہ دوسری جنگ عظیم کا ایک عظیم امریکی کمانڈر، جنرل جارج ایس پیٹن (Patton)، برطانوی فیلڈ مارشل منٹگمری کے ہمراہ 1943ء میں فتحِ سسلی کے بعد اٹلی میں داخل ہوا. یہاں اٹلی میں یکے بعد دیگرے دو ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے جنرل پیٹن کی شہرت اور اَنا دونوں کو مجروح کرکے رکھ دیا. واقعہ یوں ہے کہ دو فیلڈ ہسپتالوں کے معائنے کے دوران پیٹن کو دو ایسے مریضوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا جو بظاہر تندرست اور ہٹے کٹے معلوم ہوتے تھے. پیٹن نے ان سے بات چیت کے دوران پوچھا کہ ان کو کیا بیماری لاحق ہے؟ لیکن دونوں چپ رہے. پیٹن بڑا غصیلا لیکن بڑا دلیر جنرل تھا. اس نے ان امریکی سپاہیوں کو غیرت دلانے کی بہت کوشش کی اور ان کو کہا کہ وہ خواہ مخواہ کے خوف کو سرپر سوار نہ کریں اور بزدلوں کی طرح جنگ سے مت ڈریں. لیکن وہ دونوں سپاہی جنگ سے ہراساں ہی رہے.اس زمانے میں جنگ کے نفسیاتی پہلوؤں سے ڈاکٹروں کو بھی کچھ زیادہ آگاہی نہ تھی. پیٹن نے غصے میں آکر ان دونوں کو ایک ایک تھپڑ رسید کردیا. اس کا خیال تھا کہ تھپڑ کھا کر ان کی غیرت جاگ جائے گی اور وہ کسی ردعمل کا مظاہرہ ضرور کریں گے. لیکن وہ دونوں تھپڑ کھا کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے. پیٹن کے ہمراہ فیلڈ ہسپتالوں کے ڈاکٹر بھی تھے. ان لوگوں نے جنرل کے تھپڑ مارنے کے ”طریقہ ء علاج“ کا بُرا منایا اور ان کے کمانڈنگ افسروں نے پیٹن کے خلاف آئزن ہاور کو رپورٹ کر دی جو اتحادی افواج کا سپریم کمانڈر تھا. ڈاکٹروں کا استدلال تھا کہ جنرل پیٹن تو ہسپتالوں کے مریضوں کی عیادت کے لئے آئے تھے. ان کی وزٹ سپاہ کو تسلی دینے کے لئے شیڈول کی گئی تھی نہ کہ مریضوں کو تھپڑ مار کر ہسپتالوں میں پڑے دوسرے مریضوں کو بد دل کرنے کے لئے…… جنرل آئزن ہاور، پیٹن کا دوست تھا. وہ بھی امریکی تھا اور پیٹن کو اچھی طرح جانتا تھا. اس نے ڈاکٹروں کی رپورٹ پڑھ کر جنرل پیٹن کو معمول کی ایک وارننگ جاری کر دی.لیکن میڈیا نے اس کیس کو اتنا زیادہ اچھالا کہ رائی کا پہاڑ بن گیا. آئزن ہاور جنگ کے اس مرحلے پر پیٹن جیسے کمانڈر کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا. لیکن یہ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ جنرل پیٹن کی مزید پروموشن روک دی گئی اور اسے آرمی کمانڈر سے اوپر کی کمانڈ کا اہل نہ گردانا گیا. آئزن ہاور کا کہنا تھا کہ اگر اس واقعے / حادثے سے کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ صرف محوری (Axis) قوتیں ہی ہو سکتی ہیں، چنانچہ پیٹن کو جنوری 1944ء میں فیلڈ کمانڈ سے تبدیل کرکے انگلستان بھیج دیا گیا تاکہ وہ ”آپریشن اوور لارڈ“ (نارمنڈی لینڈنگ) کے لئے تھرڈ آرمی کی ٹریننگ کرے.برطانوی اور رشین ٹروپس جو اس جنگ کے دوسرے بڑے اتحادی تھے، وہ امریکی سولجرز کو پہلے ہی Green Troops یعنی ”کمزور دل سولجرز“ گردانتے تھے اس لئے انہوں نے اس ”نفسیاتی عارضے“ کو صرف امریکی افواج کے ساتھ مخصوص عارضہ قرار دیا……

آج اس واقعہ کو 76 برس گزر چکے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ امریکی سولجرز، دنیا کی دوسری اقوام کی افواج کے علی الرغم واقعی ایسے سولجرز ہیں جو نفسیاتی بریک ڈاؤن کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتے. ایرانی میزائل حملے کے شکار ان گیارہ سولجرز کو بھی اسی نفسیاتی بریک ڈاؤن کا سامنا ہے.نفسیاتی بریک ڈاؤن کی یہ بیماری جسے ہائی برڈ وار فیئر کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے، امریکہ کے علاوہ دنیا کی دوسری افواج میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے. پاکستان آرمی گزشتہ دو عشروں سے دہشت گردی کا شکار رہی ہے اور اس کے ہزاروں سولجرز (آفیسرز اور جوان) اس دوران مارے گئے یا زخمی ہو گئے. خودکش دھماکے، میزائل حملوں سے بھی زیادہ ناگہانی شدتِ ضرب کا باعث بنتے ہیں لیکن کسی پاکستانی فوجی کو ان حملوں میں اس طرح کی ”دماغی چوٹ“ کا سامنا نہیں ہوا جو اس ایرانی حملے میں ان 11امریکی سولجرز کو ہوا ہے. اس تناقض (Anomaly) کی بہت سی وجوہات گنوائی گئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان سولجر تو شوقِ شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر میدانِ جنگ میں اترتا ہے، لہٰذا اس کو موت کا وہ خوف دامنگیر نہیں ہوتا جو امریکی سولجرز کو ہوتا ہے…… دوسری بڑی وجہ امریکی سولجر کا وارٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا انحصار ہے. آپ کسی بھی امریکی سولجر کو دیکھیں وہ جدید ترین وار ٹیکنالوجی سے لیس اور لدا پھندا ہوگا. درجنوں بوجھل ٹیکنالوجیکل آلات اس کو زندہ رکھنے کے لئے اس کے جسم کے ایک ایک حصے پر ”نصب“ کر دیئے جاتے ہیں جن کے باعث ایک تو اس سپاہی سے حرکیت (موبلٹی) کا عنصر چھن جاتا ہے اور دوسرے اس پر ناقابلِ تسخیر ہونے کا جو زعم سوار ہوتا ہے وہ جب اچانک بکھرتا اور ٹوٹتا ہے تو اس کو شدید دماغی اور ذہنی صدمے سے دوچار کر دیتا ہے جسے اصطلاح میں ”صدمہ ء دماغ“ (Concussion) کہا جاتا ہے. ان 11امریکی سولجرز کو اسی دماغی صدمے کا سامنا ہوا اور وہ نجانے کب تک اس عارضے میں مبتلا رہیں گے. یہ عارضہ بظاہر بھلے چنگے نظر آنے والے انسانوں کو چلتی پھرتی لاشوں میں تبدیل کر دیتا ہے.

..


Top