بھارت کا عمران خان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کونسل کے اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی (قدرت روزنامہ) بھارت وزیراعظم عمران خان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کونسل کے اجلاس کیلئے مدعو کرے گا، کونسل کا اجلاس رواں سال بھارت میں ہوگا تفصیلات کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے مدعو کیا جائے گا، کونسل کا اجلاس رواں سال بھارت میں ہوگا.ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مدعو کیا جائے گا خیال رہے رواں سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس کی میزبانی بھارت کرے گا ، جس کا اعلان تنظیم کے سیکرٹری جنرل ولادی میر نوروف نے نئی دہلی میں کیا تھا. واضح رہے بھارت اور پاکستان نے 2017 میں مکمل ممبر کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کی، یہ ملکی سربراہان کا اجلاس ہے ، جس میں 8ممبر ممالک کے رہنما شرکت کریں گے، ممالک میں بھارت، چین، قازقستان، کرغستان، روس، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان شامل ہیں.یاد رہے گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے جرمن ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا ایٹمی ملک بھارت اب”مقبوضہ بھارت”بن چکا ہے، بھارت پرانتہا پسند آر ایس ایس قابض ہے آر ایس ایس جرمن نازیوں سے متاثر ہوکر بنائی گئی، جو مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے نفرت کرتی ہے، دنیا آکر دیکھ لے آزاد اور مقبوضہ کشمیر میں کیا فرق ہے، کشمیر والوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں.عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے ایران اورسعودی عرب کے درمیان تعلقات خراب نہ ہوں، خطہ ایک اور تنازع کا متحمل نہیں ہوسکتا.وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملک بھارت کو انتہا پسند چلا رہے ہیں، بھارت پر ایک خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ ہندووتوا غالب آچکی ہے.پاکستان کے پاس بہت زیادہ صلاحیتیں اور امکانات ہیں، 1960 کے عشرے میں پاکستان ترقی کے لیے ایک ماڈل تھاوزیراعظم نے کہا کہ درست ہے ہم مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں، ہمیں اپنے اقدامات کو متوازن رکھنا ہی ہے، سعودی عرب پاکستان کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک ہے، ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، کوشش ہے ایران اور سعودی کے مابین تعلقات خراب نہ ہوں، خطہ ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہوسکتا.بھارت سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلا لیڈر ہوں جس نے خبردار کیا تھا کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے،

پر ایک خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ ہندووتواغالب آچکی ہے.وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آرایس ایس 1925 میں جرمن نازیوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی، آر ایس ایس کی بنیاد مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں سے نفرت ہے، بھارت اور ہمسایوں کے لیے المیہ ہے کہ آرایس ایس نے ملک پر قبضہ کرلیا، بھارتی عوام یاد رکھیں آرایس ایس نے مہاتما گاندھی کو قتل کرایا تھا.عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم بنا تو نریندرمودی کے ساتھ مکالمت کی کوشش کی، پہلی تقریر میں کہا تھا بھارت ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے، بھارت نے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے اچھا ردعمل نہیں دیا وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیرکو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق خطہ متنازع علاقہ ہے.انہوں نے کہا کہ افسوس ہانگ کانگ میں مظاہروں کو میڈیا توجہ دیتا ہے لیکن کشمیر پر نہیں ہے، بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں، کشمیریوں اوربھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر دنیا خاموش ہے عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فائربندی کی طرف پیشرفت جاری ہے، اشرف غنی کے انتخاب کے بعد افغانستان میں نئی حکومت آچکی ہے، امید ہے امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کامیاب ہوں گے. ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن سے تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، افغانستان ہمارے لیے بھی ایک اقتصادی راہداری بن سکتا ہے، پاکستان نے افغان امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا ہے، ہمارا جتنا بھی اثرور سوخ ہے ہم نے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں.

. .

ضرور پڑھیں: ٹرمپ کا دورہ بھارت میں پوری دُنیا کو سرپرائز۔۔۔!!! پاکستان بڑی کامیابی سے ہمکنار، وزیر اعظم عمران خان نے پوری قوم خوشخبری سُنا دی

ضرور پڑھیں: بھارت میں این پی آر کا ڈر، 100 مسلمانوں نے بینکوں سے اپنا سارا پیسہ نکال لیا


Top