پاکستان کی مالیاتی ریٹنگ ’منفی بی‘ برقرار، آؤٹ لک مستحکم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) کمزور بیرونی اور مالی پوزیشنوں اور معیشت کی سست روی کا ذکر کرتے ہوئے فچ ریٹنگ نے پاکستان کی طویل المدتی غیر ملکی کرنسی جاری کرنے والوں کی درجہ بندی کو مثبت آؤٹ لک کے ساتھ 'منفی بی' پر برقرار رکھا ہے . ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیو یارک کی ایجنسی عالمی سطح پر 3 بڑی ریٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک ہے، جس نے نشاندہی کی کہ قرض سے جی ڈی پی کی شرح زیادہ ہونے، معاشی شرح نمو 2.8 فیصد ہونے اور مالی خسارا 7.9 فیصد تک بڑھنے کے ساتھ مہنگائی، سود کی ادائیگی اور کمزور ریونیو نمو پاکستان کی کمزوریاں ہیں .

ان کا کہنا تھا کہ سخت معاشی پالیسیوں سے جی ڈی پی کی نمو میں مزید کمی آرہی ہے، جس کا تخمینہ مالی سال 2020 میں 2.8 فیصد لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 2019 میں یہ 3.3 فیصد تھا، اسی طرح مالی سال 2021 میں تھوڑی بہتری کے ساتھ یہ 3.4 فیصد ہوگا. اس کے علاوہ مہنگائی میں بھی روپے کی قدر میں کمی اور توانائی کے ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے.

فچ نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی کہ مہنگائی مالی سال 2019 میں 6.8 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 2020 میں تقریباً 11.3 فیصد رہے گی، ساتھ ہی یہ امید ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک آئندہ مہینوں میں پالیسی ریٹ 13.25 فیصد کی موجودہ شرح پر برقرار رکھے گا. فچ نے کم بیرونی قرضوں، لچکدار تبادلے کی شرح اور مالی نظم و ضبط میں بہتری کی تعریف کی، تاہم انتظامی، سلامتی اور ساختی اصلاحات کو خدشے کے طور پر بیان کیا. واضح رہے کہ ایجنسی نے دسمبر 2018 میں پاکستان کے طویل المدتی قرضوں کی درجہ بندی کو بی سے منفی بی کر دیا تھا. منفی بی ریٹنگ ایک چیلنجنگ بیرونی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے جس کی خصوصیت زیادہ بیرونی فنانسنگ کی ضرورت اور کم ذخائر، کمزور عوامی مالی اعانت سمیت بڑے مالی خسارے اور سرکاری قرض سے جی ڈی پی کا تناسب زیادہ ہونا اور کمزور حکمرانی کے اشارے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان بیرونی فنانسنگ کو مستحکم کرنے اور مالی حالت پر مثبت پیش رفت کررہا ہے

لیکن اس میں کافی خطرات برقرار ہیں، اس کے باوجود بیرونی مالیات (ایکسٹرنل فائننسنگ)کمزور ہیں جبکہ ساتھ ساتھ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہیں'. رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیکویڈٹی شرح بھی 111.4 فیصد ہے جو تاریخ میں پاکستان کے بی ریٹنگ پر 161.2 فیصد سے بہت زیادہ کم ہے. فچ نے پیش گوئی کی کہ رواں مالی سال کا خسارہ گزشتہ جون 2020 کے اختتام تک جی ڈی پی کا 2.1 فیصد ہوجائے گا اور مالی سال 2021 میں یہ 1.9 فیصد ہوجائے گا جبکہ گزشتہ سال یہ 4.9 فیصد تھا. تاہم ساتھ ہی یہ نشاندہی کی گئی کہ درآمدی دباؤ کم ہونا خسارے کی اہم وجہ بنی، جس کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی اور سخت مالی حالات بھی ہیں، اس کے علاوہ برآمدات میں معمولی حد تک اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے.

..


Top