شدید بارشیں اور برفباری متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، انتہائی افسوسناک صورتحال

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان بھر میں شدید بارش اور برفباری کے باعث متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، ضلع پشین میں دومکانات کی چھتیں گرنے سے بچوں سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے،انتظامیہ کی شہریوں کو کوئٹہ،لکپاس، کولپور، چاغی، کچلاک، بوستان، کوژک ٹاپ،کان مہترزئی، زیارت، ہرنائی کی جانب سفر نہ کرنے کی ہدایت، کوئٹہ چمن،کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ پنجاب شاہراہوں پر ٹریفک معطل کردی گئی ہفتہ کو بلوچستان بھر میں شروع ہونے والا بارش اور برفباری کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا، شدید برفباری کی وجہ سے ضلع پشین کے علاقے بوستان میں چوکال کے مقام پر مکان کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ تین شدیدز خمی ہوگئے جبکہ پشین ہی کے علاقے برشور میں زرخصار میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہوگئے لیویز نے لاش کو تحویل میں لیکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں ضروری کاروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ہفتہ اور اتوار کو کوئٹہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، قلات، ہرنائی، پشین،مستونگ میں شدید برفباری کے باعث مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مطابق کوئٹہ زیارت روڈ لواری ٹاپ کے مقام اور کچلاک میں سملی کے مقام پربند ہونے سے ٹریفک معطل ہوگئی، کوئٹہ سے کراچی اور پنجاب جانے والے ٹرانسپورٹ کو کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سے پنجاب کی جانب سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پولیس چیک پوسٹوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کوئٹہ سے زیارت، قلعہ سیف اللہ کی جانب جانے والے سیاحوں کو بھی شہر سے باہر نہ جانے دیا جائے انہوں نے بتایا کہ یہ تمام اقدامات موسم کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر کئے گئے ہیں،ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے مطابق ہرنائی میں برفباری سے خوست، زرد آلو، چھپ کے مقامات پر ہرنائی کوئٹہ اور ہرنائی سنجاوی روڈ بلاک ہوگئے ہیں سڑکوں کو بحال کرنے کے لئے ہیوی مشنری کی مدد لی جارہی ہے،،چوتیر کے مقا م پر برفباری سے زیارت سنجاوری روڈ بھی بلاک ہوگیا، کوئٹہ کے داخلی مقام لکپاس اور ضلع مستونگ کے مقامات پر کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سبی شاہراہوں پر گزشتہ روز سے جاری شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر ٹریفک معطل کردی گئی، سڑکوں کی بحالی کے لئے پی ڈی ایم اے، ایف ڈبلیواور اور این ایچ اے ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ آپریشن شروع کردیا، تاہم موسم کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو نوہسار کانک روٹ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی، کچھی کے علاقے کولپور میں بھی برفباری کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی، اسی طرح قلعہ عبداللہ میں شدید برفباری کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ کوژک ٹاپ کے مقام پر مکمل طور پر بند ہوگئی،

انتظامیہ نے سڑک بحال کرنے کے لئے اقدامات شروع کردئیے تاہم رات گئے تک شاہراہ پر ٹریفک بحال نہ ہوسکی،بلوچستان کے ضلع گوادر، کیچ، چاغی، واشک، نوشکی میں گزشتہ دو روز سے جاری شدید بارشوں نے تباہی مچادی بارشوں کی وجہ سے اورماڑہ میں کئی ماہگیروں کی کشتیاں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوگئیں ضلع کیچ میں تیز بارشوں سے دریا اور ندی نالوں میں طغیان سے مند میں سیلابی ریلہ آبادیوں میں داخل ہوگیا جبکہ زبیدہ جلال روڈ کو بھی شدید نقصان پہنچا، دریائے نہنگ میں اونچے درجے کے سیلاب سے کھجور کی باغات کو شدید نقصان پہنچا، بلیدہ میں سیلابی ریلے سے کئی دیہات زیر آب آنے سے گندم کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، بلیدہ کے علاقے، سلو، میناز اور بٹ کیلوگوں میں لوگوں نے محفوظ مقامات پر نقل مقانی شروع کردی،تفتان میں ہامون ماشکیل بگ،عیسے طاہر،کاچر دوریک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری سے درجنوں تیل بردار اور مسافر گاڑیوں میں کئی افراد پھنس گئے جنہیں ریسکیو کرنے کے لئے شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوشش شروع کردیں جبکہ متعد د علاقوں تک رسائی کے لئے انتظامیہ نے حکومت بلوچستان سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ایف سی نے برف اور بارش میں پھنسے ہوئے مسافروں کے لئے امدادی کیمپ قائم اور زیارت،مندے ٹک،اور گھاٹی پل میں عارضی پناہ گاہیں قائم کردیں، جہاں مسافروں کو کھانا بھی دیا جارہا ہے .

.

ضرور پڑھیں: بارشیں اور برفباری کب تک جاری رہیں گی اس سال سردیوں کا دورانیہ کتنا زیادہ طویل ہو گا؟ محکمہ موسمیات نے حیران کن پیش گوئی کر دی

.

ضرور پڑھیں: بارشیں اور برفباری کب تک جاری رہیں گی؟ سردیوں کا دورانیہ کتنا زیادہ طویل ہو گا؟ محکمہ موسمیات نے حیران کن پیش گوئی کر دی


Top