بلوچستان ،شدید بر ف باری بارشیں 14افراد جاں بحق

مختلف پہاڑی علاقوں سے گزرنے والی قومی شاہراہوں کی بندش سے صوبائی حکومت اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو سفر سے گریز کرنے کی انتباہ کی ہے،مسافر پھنس گئے 
کوئٹہ واندرون بلوچستان (قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری نے جہاں مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے وہیں کمروں کی چھتیں گرنے سے اب تک بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ درجن بھر زخمی ہو گئے ہیں بلکہ مختلف پہاڑی علاقوں سے گزرنے والی قومی شاہراہوں کی بندش سے مسافروں کے پھنس جانے کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں،صوبائی حکومت اور پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو سفر سے گریز کرنے کی انتباہ کی ہے اور کہا ہے کہ پھسلن کے باعث قومی شاہراہوں پر سفر خطرناک ہیں اس لئے لوگ سفر سے اجتناب برتیں،شدید برفباری کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بجلی کو

طویل ترین بریک ڈاؤن ہے بلکہ مختلف اضلاع میں تو گزشتہ روز سے ہی بجلی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے رہی سہی کسر گیس پریشر کی کمی اور انٹرنیٹ نظام کی خرابی نے پوری کر دی ہیں . تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی صبح سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شروع ہونے والے شدید بارشوں اور برفباری نے نظام زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور ضلع پشین کے علاقے چوکل اور برشور میں مکانوں کے کمروں کی چھتیں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے ہیں بلکہ درجن سے زائد زخمی بھی بتائے جارہے ہیں سرحدی علاقے چمن کے کلی لقمان میں اس وقت منگنی کی خوشی ماتم میں بدل گئی جب گھر کے ایک کمرے کی چھت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت5 افراد جان بحق جبکہ 6 زخمی ہو گئے

،جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال چمن منتقل کر دیا گیا ہے بلکہ خاتون اور ایک شدید زخمی بچی کو کوئٹہ ریفر کر دیا گیا ہے جنہیں کوئٹہ منتقل کرنے کے لئے بھی لواحقین کو مشکل کا سامنا ہے کیونکہ خوجک ٹاپ گزشتہ روز سے جاری برفباری سے بند ہے جسے کھولنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کوشاں ہیں،اس کے علاوہ ضلع پشین کے علاقے چوکل میں کمرے کی چھت گرنے سے 2 بچیاں جان کی بازی ہار گئی ہیں جبکہ 2 افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل بتائی جا رہی ہیں علاوہ ازیں برشور میں چھت گرنے سے بھی ایک خاتون کے جاں بحق جبکہ 2 بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں

کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے،واشک سے رکن اسمبلی زابد ریکی کے مطابق ماشکیل کی ندی بگ میں سیلابی پانی میں 20 افراد پھنس چکے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان سے رابطے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہو پائی انہوں نے وزیر داخلہ اور پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لئے ہیلی کاپٹر بھیجوانے کی درخواست کی ہیں،انہون نے ایف ڈی کی جانب سے انسانی جانوں کو بچانے کے لئے کوششوں کی تعریف کی ہے .

شدید برفباری اور بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں کے ایک دوسرے سے رابطے منقطع ہو چکے ہیں، خوجک ٹاپ،مچھ کولپور،کوئٹہ کراچی شاہراہ،کچلاک،کان مہترزئی شاہراہ،کوئٹہ ڑوب شاہراہ و دیگر کی بھی بندش کی اطلاعات مل رہی ہیں بلکہ وہاں سینکڑوں گاڑیوں میں سوار افراد کی پھنس جانے کی بھی اطلاعات ہیں بعض مقامات پر پھنسے افراد نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں مدد کی اپیل کی ہے تو متعدد نے میڈیا نمائندوں اور منتخب نمائندوں کے ذریعے امدادی ٹیموں تک اطلاعات پہنچانے کی کوششیں کی، ڈپٹی کمشنر کویٹہ کے حکم پر سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نے تمام پبلک ٹرانسپورٹ و گڈز ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کویٹہ سے کراچی،کوئٹہ چمن،کوئٹہ سبی نیشنل ہائی ویز پر برف جمنے کی وجہ سے سفر کرنے سے گریز کریں،مستونگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کراچی این 25 اور کوئٹہ سبی این 65 شاہراہوں پر کل سے شدید برفباری کے باعث مسلسل برف پڑ رہی ہے جنہیں صاف کرنے کے لئے ایف ڈبلیو او،این ایچ اے،پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے

اہلکار تسلسل کے ساتھ گریڈرز اور ٹریکٹرز کی مدد سے برف کو ہٹانے میں مگن ہے،کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو کانک نوحصار روٹ استعمال کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ وہ لکپاس کے دشوار گزار علاقے میں مشکلات سے بچ سکیں.کچلاک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کویٹہ چمن شاہراہ کو سملی ملازئی کے مقام پر بند کر کے سفر کرنے والوں کو بائی پاس کا راستہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.ادھر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے شہر میں برفباری کے پیش نظر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے شہریوں کو شہر کے بیرونی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے.اتوار کے روز کوئٹہ میں شدید برفباری کے باعث جہاں مختلف شاہراہیں دریا کا منظر پیش کر رہی تھی وہی بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر کی کمی،ٹیلی فونز کی خرابی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے اتوار کے روز سرکاری ملازمین نے ہفتہ وار تعطیل گھروں میں رہ کر گزارہ بلکہ دکانداروں نے بھی دکانیں کھولنے سے اعتزاز کیا جس کی وجہ سے کوئٹہ کی رونقیں ماند پڑ گئی سڑکوں پر نوجوان ایک دوسرے کو برف کے گولے مارتے اور برفباری سے لطف اندوز ہوتے دیکھائی دیئے جبکہ ٹریفک معمول سے کم رہا.دریں اثناء  محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری سمیت موسم کے ابر آلود رہنے کی پیشن گوئی کی ہے کویٹہ کے علاؤہ پشین،خانوزئی،قلعہ عبداللہ،توبہ کاکڑی،توبہ اچکزئی،زیارت،قلعہ سیف اللہ،زوب،لورالائی،مستونگ،قلات،منگچر،واشک،سبی سمیت دیگر سے بھی بارش اور برفباری کی اطلاعات ملی ہیں.ایڈمنسٹریٹر طارق جاوید مینگل اور چیف میٹروپولیٹن افسر عطاء اللہ بلوچ نے جاری برفباری کے دوران شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، سڑک سے برف ہٹانے کے کام کا معائنہ کیا اور ہدایات جاری کی

.دریں اثناء ژوب میں مکان کی چھت گرنے سے خواتین اوربچوں سمیت6افراد جاں بحق ہوگئے. لیویز کے مطابق اتوار کو ژوب کے علاقے کلی شہاب زئی میں برف باری کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 3خواتین اور 3بچوں  جاں بحق ہوگئے لیویز نے نعشوں کو ملبے تلے سے نکال کرہسپتال منتقل کردیا جہاں نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئیں جاں بحق ہونے والوں کا تعلق قلعہ سیف اللہ سے بتایا جاتا ہے.دریں ا ثناء بلوچستان کے بارش اور برف باری سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج اورایف سی نے ریسکیو آپریشن کا آغاز کردیا صوبے کے مختلف اضلاع میں عارضی پناہ گاہیں قائم کرتے ہوئے قومی شاہراہوں پر پھنسے ہوئے مسافروں کو خوراک،پانی اورچائے فراہم کی گئی. تفصیلات کے مطابق اتوار کو پاک فوج اور ایف سی بلوچستان نے بلوچستان کے ضلع کوئٹہ،قلات،مکران اور ژوب ڈویژنز میں ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا پاک فوج اورایف سی نے قومی شاہراہوں پر پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک،پانی،چائے اورگرم کپڑے فراہم کئے جبکہ مختلف مقامات پر عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کی گئی ہیں جہاں پر مسافروں کو ٹھہرایاگیا ریلیف آپریشن کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقراررکھنے کیلئے بھی اقدامات کئے گئے.
 

..


Top