وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے میں نے خود کام کرنے سے معذرت کی ہے ۔۔۔ شریفوں کا ایک چہیتا انتہائی ذلیل و رسوا ہونے کے بعد ان دنوں کیا کہتا پھر رہا ہے ؟ توفیق بٹ نے پول کھول دیا

لاہور (قدرت روزنامہ) گوجرانوالہ کے ہر دل عزیز آرپی او طارق عباس قریشی اپنے ماتحت اضلاع میں کوئی نہ کوئی رونق لگائے رکھتے ہیں، پولیس کو عوام خصوصاً مظلوم عوام کی خدمت کے لیے وقف کرنے میں اُن کی جدوجہد شاید اِس لیے رنگ لے آتی ہے وہ ایک نیک نیت انسان ہیں، ظاہر ہے ساری خرابیاں تو وہ دور نہیں کرسکتے نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں . .

.... کہ ساری خرابیاں تو انسان خود اپنی دور نہیں کرسکتا، مگر محنت اور محبت سے ہر ممکن حدتک وہ یہ کوشش کرتے ہیں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں، بڑی دیر کے بعد گوجرانوالہ میں ایسا آرپی او آیا ہے جو گوجرانوالہ کے عوام اورپولیس میں یکساں مقبول ہے، اپنی مقبولیت کے لیے وہ مصنوعی یا جعلی طریقے نہیں اپناتا، جیسا کہ چند برس قبل گوجرانوالہ میں وزیرآباد سے تعلق رکھنے والا ایک نمائشی ایماندار پولیس افسر اپنا تا تھا ، شہرت کا وہ اس قدر بھوکا تھا ذرا سا کوئی اچھا کام کرلیتا پورے گوجرانوالہ کو مصیبت پڑجاتی کہ سارے کام چھوڑ کر آرپی او صاحب کی تعریف کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا ہے؟. اب خیر سے وہ ریٹائرڈ ہوگیا ہے، اور اُس کی شہرت بھی اُس کے ساتھ ہی ریٹائر ہوگئی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے پسندیدہ شریف برادران سے ایک ٹیکنیکل عہدہ حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہوگیا تھا جسے برقرار رکھنے کے لیے موجودہ وزیراعظم عمران خان کی خوشامد بھی اُس نے شروع کردی تھی، ایک وفاقی وزیر کو ساتھ لے کر اُن سے ملاقات بھی کر آیا تھا، پر بات نہ بن سکی، اُسے فارغ کردیا گیا، جس پر اپنا بچا کھچا بھرم برقرار رکھنے کے لیے اُس نے مشہور کردیا ”وزیراعظم سے مل کر اصل میں، میں نے خود کام کرنے سے معذرت کی ہے.“ جی تو میرا بہت چاہا تھا اِس ضمن میں ”اصل کہانی“ سامنے لے آﺅں، پر پھر سوچا جو چلے گیا اُسے اب جانے ہی دیا جائے. وہ جہاں تعینات ہوتا تھا ایس ایچ اوز کو مسجدوں میں بلا کر قرآن پاک پر اُن سے حلف لیتا کہ وہ کرپشن نہیں کریں گے“. ایک دن ایک ایس ایچ او پھٹ پڑا. اُن سے کہنے لگا ”سر آپ کو اپنی کمانڈ پر اعتبار نہیں جو آپ قرآن پاک کو بیچ میں لے آتے ہیں ؟’“ مزے کی بات یہ ہے سارے کرپٹ ایس ایچ اوز نے حلف دے دیا، اور جس نے حلف دینے سے معذرت کی وہی سب سے ایماندار ایس ایچ او تھا، …. موجودہ آرپی او طارق عباس قریشی بالکل مختلف طبیعت کے مالک ہیں. وہ کسی سے حلف نہیں لیتے، پر مجھے یقین ہے خود اُنہوں نے حلف اُٹھایا ہوا ہے وہ اپنے فرائض انتہائی ایمانداری سے انجام دیں گے، ایسی حلیم طبیعت کے مالک ہیں اپنے کسی ماتحت کو اُس کے کسی ناقابل معافی جرم یا غلطی پر محکمانہ سزادینی ہو اُس سے پوچھ لیتے ہیں کہ ”بھائی اگر اجازت ہو میں آپ کو سزا دے دوں ؟“ …. جتنی محبت سے وہ پوچھتے ہیں کوئی آگے سے یہ بھی نہیں کہہ پاتا ”نہیں سر سزا نہ دیں“ …. کوئی خاص وعام اُن کے پاس اپنی جائز گزارش لے کر چلے جائے یہ ممکن ہی نہیں وہ دل وجان سے اُس کی مدد نہ کریں، میرے بے شمار دوست اپنے کسی جائز کام کے لیے مجھے اُن سے سفارش کرنے کے لیے کہتے ہیں، میں اُن دوستوں سے گزارش کرتا ہوں ”ایک بار آپ میری یا کسی کی سفارش کے بغیر اُن کے پاس چلے جائیں، آپ کا کام اگر نہیں ہوگا

..


Top