دعا منگی کی رہائی لیکن ابھی تک لڑکی کا میڈیکل بھی نہیں کرایا جا سکا اور نہ ہی۔۔۔ ایسی تفصیلات کہ یقین کرنا مشکل

کراچی (قدرت روزنامہ) ڈیفنس کراچی سے طالبہ دعا منگی کے اغوا اور تاوان وصولی کے مقدمے میں پولیس کو سیاسی یا اخلاقی دباﺅ کا سامنا ہے، کسی وجہ سے افسران بے بس ہیں یا پولیس کی مجرمانہ نااہلی ہے کہ بازیابی کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود دعا منگی کا ابھی تک قانونی طبی معائنہ نہیں کرایا گیا اور نہ ہی مغویہ کا دفعہ 161 کے تحت عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے . روزنامہ جنگ کے ذرائع کے مطابق تفتیشی پولیس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی کوشش بھی سامنے نہیں آئی .


ضرور پڑھیں: دعا منگی کیس میں اہم پیش رفت، حساس اداروں اور پولیس کے چھاپوں میں مزید 4 افراد گرفتار، لڑکیاں بھی گروہ میں شامل

19 سالہ دعا منگی کو 30 نومبر کی رات ڈیفنس فیز 6 میں خیابان بخاری پر چائے کے ایک ڈھابے کے باہر سے اغواءکیا گیا تھا.وہ 6 دن بعد اچانک خود گھر پہنچ گئی تھی اور ملزمان کی جانب سے خود کو زنجیروں میں جکڑ کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کرقید رکھنے کا بیان دیا تھا. جس کے کئی دن بعد کی کوششوں کے نتیجے میں پولیس بھی دعا منگی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی.دو ملین روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کرائی گئی دعا منگی نے پولیس کو بھی فلمی طرز کا ایسا ہی گول مول اور بے ضرر بیان ریکارڈ کرایا جس میں اسے اغواءکرنے والے، ایک ہفتہ تک یرغمال بنا کر رکھنے والے یا تاوان وصول کرنے والے کسی ایک بھی ملزم کی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کے بیان سے کسی گروہ کے بارے میں کوئی اشارہ مل رہا ہے. دوسرے معنوں میں اس بیان سے ملزمان کو ہر پہلو سے تحفظ مل رہا ہے. میڈیا پر سامنے آنے والے دعا منگی کے بیان کے مطابق مغویہ نے ان ملزمان کے چہرے دیکھے اور نہ آوازیں سنیں اور حیرت انگیز طور پر ملزمان کی جانب سے اس کے کانوں پر ہیڈ فون لگاکر قید رکھنے کا فلمی سین جیسا حوالہ دیا گیا.اخباری ذرائع کے مطابق دعا منگی کے اس بیان کو سچ مان بھی لیا جائے تو قانونی طور پر اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے. تمام قانونی تقاضے جانتے ہوئے بھی پولیس افسران نے دعا منگی کے اس بیان کو قانونی شکل دینے کیلئے ابھی تک دفعہ 161 کے تحت دعا کا بیان ریکارڈ نہیں کرایا.دوسری جانب اسے اس مقام پر لے جاکر تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ جہاں مغویہ کے مطابق ملزمان نے اسے رہا کیا. اس مقام سے شہادتیں جمع کرنے کا کوئی عمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی سی سی ٹی وی کی مدد سے دعا کو رہا کرنے والوں کی گاڑی کا سراغ لگانے کی کوئی کوشش سامنے آئی.

ذرائع کا کہنا ہے رواں سال 11 مئی کو ڈیفنس سے عین اسی انداز سے بسمہ سلیم کے اغوا اور 9 دن بعد پونے دو کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی گلشن اقبال کے اسی علاقے میں کی گئی تھی جہاں دعا کے اغوا کاروں کو ادائیگی کی گئی. پولیس اگر بسمہ اغوا کیس کے نشانات پر بھی چل پڑتی تو اب تک کیس کا ڈراپ سین ہوچکا ہوتا.اگر بسمہ کیس کے ضابطے کی تفتیش اور بھرپور قانونی تقاضے پورے کر لیے جاتے تو دعا منگی اغوا نہیں ہوتی.تشویش ظاہر کی ہے کہ اب دعا منگی کے اغوا اور تاوان کے عوض بازیابی کے بعد پولیس کی مجرمانہ غفلت اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل سے ملزمان کی دیدہ دلیری اور بڑھے گی. اس طرح کے کئی اور گروہوں کے پیدا ہونے اور لڑکیوں کے اغوا کا سلسلہ پورے کراچی تک پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہوگئے ہیں. ماضی میں اغوا برائے تاوان کے جتنے بھی بڑے کیسز ہوئے پولیس یا سرکاری اداروں کی جانب سے بازیاب کرائے گئے افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کرنے کا سلسلہ ریکارڈ پر ہے.بازیاب افراد کا میڈیکل کرایا جانا مقدمے کے منتقی انجام تک پہنچانے کیلئے انتہائی اہم ہوتا ہے مگر دعا منگی کیس میں بعض اعلیٰ پولیس افسران ایسی کسی کوشش کو دعا کے خاندان کے ساتھ اخلاقی زیادتی قرار دے رہے ہیں. ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ صدمے کے شکار خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا مناسب نہیں اسی وجہ سے وہ پولیس کی روایتی سختی کے حق میں نہیں.ذرائع کے مطابق دعا منگی کی بازیابی کی رات اس کیلئے صدر کراچی کے ہوٹل میں کمرہ بک کرانے کی کوشش نے اس واردات کے سلسلے میں شکوک و شبہات کو تقویت دی ہے. پولیس کے ایک اور ذریعہ نے اس معاملے میں پولیس کو سیاسی اور لسانی دباﺅ کا سامنے کرنے کا بھی انکشاف کیا ہے.

..

ضرور پڑھیں: دعا منگی کا سوشل میڈیا پر پہلا بیان سامنے آ گیا


Top