شہتوت کے پتے بھی صحت کے لیے فائدہ مند

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)شہتوت بیریز کی ایسی قسم ہے جو ہر سال 2 بار مختصر وقت کے لیے پاکستان میں دستیاب ہوتی ہے یعنی مارچ سے مئی اور پھر اکتوبر سے نومبر تک . یہ پھل اکثر گھروں میں بھی لگا ہوتا ہے اور بیشتر افراد تو اسے مفت توڑ کر ہی کھالیتے ہیں .


ضرور پڑھیں: پتّے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے مفید غذائیں جنہیں ضرور کھانا چاہیے

شہتوت کی نشوونما بہت تیزی سے ہوتی ہے اور اس کا پھل مختلف رنگ بدلتا ہے جو آخر میں سیاہ یا گہرے جامنی کی شکل اختیار کرلیتا ہے. یہ پھل آئرن، وٹامن سی، وٹامن کے، پوٹاشیم اور کیلشیئم سے بھرپور ہوتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے پتے ہی صحت کو کتنا فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ ان کا استعمال عرصے سے مختلف ایشیائی ممالک میں چائے اور سپلیمنٹ کی شکل میں کیا جارہا ہے. اس کے فوائد درج ذیل ہیں. بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں کمی شہتوت کے پتے میں ایسے مرکبات موجود ہوتے ہیں

جو ذیابیطس سے لڑنے میں مدد دے سکتے ہیں، یہ مرکبات معدے میں کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کی روک تھام کرسکتے ہیں، جبکہ بلڈ شوگر لیول اور انسولین کی سطح میں کمی لاسکتے ہیں. ایک تحقیق میں 37 افراد کو بلڈ شوگر لیول بڑھانے والے ایک سفوف کھلایا گیا اور پھر شہتوت کے پتوں کا ایکسٹریکٹ دیا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے. اسی طرح ایک اور تحقیق میں ان پتوں کے ایکسٹریکٹ کی دن میں تین بار ایک ہزار ملی گرام مقدار ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کو استعمال کرائی گئی اور ان میں بلڈ شوگر لیول میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی. دل کی صحت بہتر کرے کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان پتوں کا ایکسٹریکٹ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر لیول کے ساتھ ورم میں کمی لاتا ہے اور شریانوں میں چکنائی کے جمع ہونے کی روک تھام کرتا ہے،

جو امراض قلب کا باعث بننے والا عنصر ہے. ایک تحقیق میں ہائی کولیسٹرول کے شکار افراد کو دن میں 3 بار 280 ملی گرام ان پتوں کا سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا، 12 ہفتے بعد محققین نے دریافت کیا کہ ان افراد میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں 5.6 فیصد کمی آئی ہے جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح 19.7 فیصد بڑھ گئی. ورم میں کمی یہ پتے ورم کش مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں جن میں فلیونوئڈز اینٹی آکسائیڈنٹس بھی شامل ہیں، کچھ تحقیق رپورٹس کے مطابق یہ پتے ورم اور تکسیدی تناﺅ سے لڑ سکتے ہیں جو مختلف امراض کا باعث بنتے ہیں. چوہوں میں ہونے والی تھقیق رپورٹس کے مطابق اس پتے کے سپلیمنٹ سے ورم کا باعث بننے والے عناصر جیسے سی کریٹیو پروٹین کے ساتھ ساتھ تکسیدی تناﺅ میں کمی آتی ہے. دیگر طبی فوائد اس حوالے سے زیادہ تحقیق تو نہیں ہوئی مگر اس کے کچھ دیگر فوائد اور بھی ہیں جیسے اس کا ایکسٹریکٹ جگر کے ورم میں کمی اور نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے، اسی طرح یہ پتے چربی گھلانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں جس سے جسمانی وزن میں بہت تیزی سے کمی آسکتی ہے.

..

ضرور پڑھیں: پتّے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے مفید غذائیں جنہیں ضرور کھانا چاہیے


Top