منافقت کی انتہا۔۔۔ اپنی کرتوتوں کا پردہ عیاں ہونے پر پیپلزپارٹی کھل کر سامنے آگئی،نیب کوکس چیز کے ساتھ منسلک کر دیا؟ جانیے

کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نیب ایک تماشہ ہے ادارہ نہیں،خورشید شاہ کو چھ ماہ تک بلاجوازقید میں رکھنےکےبعد اَب اِنہیں جے آئی ٹی بنانے کاخیال آیا ہے؟آصف زرداری کی ضمانت پر رہائی حق کی فتح ہے،وکلا کی جانب سے ہسپتال پر حملے کے نتیجے میں ہلاکتیں قابل مذمت،وکلا تنظیموں کو ذمہ داری پوری کرنا ہوگی . سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئےسندھ سعید غنی نے کہا کہ میں لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ہونے والے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں .

ضرور پڑھیں: دو ماہ پہلے کہا تھا ن لیگ اورپیپلزپارٹی ووٹ دیں گے، شیخ رشید

وکلاہمارے معاشرے کی ایک ذمہ دار برادری ہے اور انہیں قانون کا سب سے زیادہ ادراک ہے لہذا قانون کا خیال بھی رکھنا چاہئے،معاملے پر وکلا تنظیموں کو سخت نوٹس لینا چاہئے.اُنہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب چلانا عثمان بزدار کے بس کی بات نہیں ہے،پتا نہیں کہ عمران خان نے قسسم کھائی ہے کہ عثمان بزدار کو تبدیل نہیں کرنا ،عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنانا پنجاب جیسے بڑے صوبے کے لوگوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے. انہوں نے مزید کہا ہمیں امید ہے کہ جس طرح میرٹ پر آصف علی زرداری کو ضمانت دی گئی ہے 17 دسمبر کو فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر بھی عدلیہ میرٹ پر فیصلہ کرے گی اور ایک خاتون اور دوسری جانب ان کی خصوصی بچی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو ضمانت دے گی. جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور معروف اینکر ریحام خان بھی پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء گردی اور صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب پر مشتعل وکلاءکے تشدد پرخاموش نہ رہ سکیں تاہم اُنہوں نے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئےایسی بات کہہ دی ہےکہ وکیلوں کے ہاتھوں تھپڑوں کا شکار ہونےوالےفیاض الحسن چوہان کےدرد کی شدت میں اضافہ ہوجائےگاجبکہ تحریک انصاف کےکارکن بھی ریحام خان کےخلاف سوشل میڈیا پرگولہ باری کرنا شروع ہو جائیں گے .

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے معروف صحافی خاتون ریحام خان کا کہنا تھا کہ آج لاہور میں صورتحال اتنی خراب نہ ہوتی اگر اُسے کنٹرول کرنے کےلیےاَہل لوگ موجود ہوتے،آج کا واقعہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،وزیراعلٰی صاحب لاہور تو دور کی بات صوبے میں ہی موجود نہ تھے اوپر سے انتظامیہ کو احکامات دینے کے لیے سلیکٹڈ کے میسج کا انتظار کرتے رہے.ریحام خان کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کے ساتھ جو ہوا اچھا نہیں ہوا،میں اُس کی مذمت کرتی ہوں لیکن حکومتی وزراء کو خود اپنی حیثیت اور عوام میں مقبولیت کا اندازہ ہونا چاہیے،عوام میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ایسے میں وزراء ہیرو بننے کی کوشش کریں گے تو ایسا ہی ہوگا.اُنہوں نے کہا کہ آج حکومتی وزراء کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر جو ہو رہا ہے یہ اسی تربیت کا نتیجہ ہے جو سلیکٹڈ نے دی ہے،لوگوں کو گالیاں دینے اور گھسیٹنے کی دھمکیاں دینے والوں کو خود آج لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے.

..

ضرور پڑھیں: وزیراعظم نے پیپلزپارٹی سے پی ٹی آئی میں آنے والے رہنما کو کھری کھری سنا دیں


Top