چیئرمین نیب نے غلط کہا، مالم جبہ کیس پر کوئی حکم امتناعی نہیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حالیہ دعوے کے برعکس معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک اور دیگر کے خلاف مالم جبہ میگا سکینڈل کیس کسی بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے اس کیس میں کوئی حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے . قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے انسداد کرپشن کے عالمی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیپ پر اپوزیشن کا یکطرفہ احتساب کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے

لیکن سچ یہ ہے کہ مالم جبہ اور بی آر ٹی کیسوں میں عدالتوں نے حکم امتناعی جاری کر رکھے ہیں جس کے باعث نیب کوئی کارروائی نہیں کرسکتا .


ضرور پڑھیں: سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کے افسران کی تعیناتیوں کے اختیار کا ازخودنوٹس لے لیا

چیئرمین نے مزید کہاکہ مالم جبہ اوربی آر ٹی میں ریفرنسز تیارہیں اور حکم امتناعی ختم ہوتے ہی وہ ان ریفرنسز پر کارروائی شروع کردیں گے. تاہم نیب کے باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ مالم جبہ ریفرنس پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوا تاہم بی آر ٹی پر خیبر پختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر حکم امتناعی موجود ہے لیکن اس کا مالم جبہ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے.

نیب کے ایک سینئیر افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں مالم جبہ سیکنڈل میں کوئی حکم امتناعی نہیں ملا . ہم نے اس کیس میں تفتیش مکمل کرکے ریفرنس تیار کیا تھا جس کو نیب ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری کے لئے ہیڈ کوارٹر بھجوا یا گیا تھا.اس کے بعد حکومت کی طرف سے دباؤ آیا تو کیس کو سردخانے میں ڈال دیا گیا.

یاد رہے کہ مالم جبہ سیکنڈل جنوری 2018 میں بے نقاب ہوا تھا لیکن تقریباً دوسال گزرنے کے باوجود نیب اس میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کر سکا. اس کیس میں موجودہ وزیر دفاع اور عمران خان کے قریبی ساتھی پرویز خٹک مرکزی ملزم ہیں جس وجہ سے اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی.

..

ضرور پڑھیں: چیئرمین نیب سے وارنٹ گرفتاری کا اختیار واپس لینے کی تجویز


Top