ایک ہفتے میں خواتین کورہا نہ کیاگیا تو بلوچستان میں دما دمست قلندر کرینگے ‘بلوچستان نیشنل پارٹی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی بے حرمتی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا بندوق کے نوک پر کوئی بھی ہمیں پاکستانی نہیں بناسکتے وزیر داخلہ بلوچستان کا بیان بلوچ دشمن بیان ہے اگر ایک ہفتے میں خواتین کورہا نہ کیاگیا تو بلوچستان میں دما دمست قلندر کرینگے خواتین کی تصاویر کو میڈیا پر پیش کرنے والوں پر لعنت بھیجتے ہیں ہمارے خواتین کی بے حرمتی کرنے والوں کو کسی بھی صورت نہیں چھوڑیں گے ان خیالات کااظہار بی این پی کے مرکزی نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ،ملک نصیر شاہوانی،اختر حسین لانگو،موسیٰ بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ آواران واقعہ پر فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کیا جاسکے بی این پی اصولی موقف پر قائم ہے نام نہاد صوبائی حکومت کی موجودگی میں اس طرح واقعات کا رونما ہونا شرمناک عمل ہے بلوچستان ہائی کورٹ اس واقعہ کا فوری طور پر نوٹس لے ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوری حکومت کے بعد مسائل حل ہونگے مگر حالات مزید خرابی کی طرف جارہے ہیں یہ ہمارے روایات پر براہ راست حملہ ہے مشکوک طریقے سے گرفتاری بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی سازش ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت صرف ٹوئٹر کے ذریعے چل رہا ہے رہنمائوں نے کہا کہ 29نومبر کو ضلع آواران کے مختلف علاقوں سے فورسز نے بے گناہ خواتین کو اٹھا کر چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا اور بغیر کسی مجسٹریٹ یا وارنٹ کے بغیر کوئی کی گئی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے رات کو گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کی تقدس کو جس طرح پامال کیاگیا ہے یہ غیر جمہوری غیر آئینی اور غیر انسانی عمل ہے اس عمل کو ہم کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے گزشتہ کئی عرصے سے وفاقی فورسز نے ظلم و زیادتی کرکے بے گناہ لوگوں کو اٹھایاگیا اب خواتین کو بھی اٹھایا جارہا ہے ایک بار پھر حالات کو خرابی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے انسانی حقوق ان واقعات کا فوری طور پر نوٹس لے انہوں نے کہاکہ خواتین پر ایسے الزامات لگائے گئے جو کہ بالکل درست نہیں ہے بلوچستان کے اسلامی و قبائلی روایات کو پامال کیاگیا اسے حالات میں بی این پی خاموش نہیں رہے گی جس طرح مقدمات بنائے گئے ہیں یہ غیر جمہوری عمل ہے اور اس عمل کی ہم پہلے بھی مذمت کی اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے انہوں نے کہاکہ آواران واقعہ پر فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کیا جاسکے بی این پی اصولی موقف پر قائم ہے جمہوری حکومت کے بعد مسائل حل ہونگے مگر حالات مزید خرابی کی طرف جارہے ہیں یہ ہمارے روایات پر براہ راست حملہ ہے مشکوک طریقے سے گرفتاری بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی سازش ہے انہوں نے کہاکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بندوق کے زور پر ہمیں مجبور کرینگے مگر بندوق کے نوک پر ہم کسی بھی صورت کسی چیز کو تسلیم نہیں کرینگے بلوچستان کے عوام سیاسی سوچ رکھتے ہیں اور ہم نے ہمیشہ عوام کی حقوق کی بات کی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کسی بھی صورت ایسے غیر جمہوری عمل کو تسلیم نہیں کرینگے جس طریقے سے ہمیں دبا یا جارہا ہے ا گر خواتین کو با عزت نہیں چھوڑا گیا تو بلوچستان نیشنل پارٹی سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری حکومت وقت پرعائدہوگی انہوں نے کہا کہ خواتین کو دہشتگرد قرار دینے والے پشتون یا ہزارہ نہیں بلکہ نام نہاد بلوچ وزیر داخلہ ہے جوگواہی دے رہا ہے کہ بلوچ خواتین دہشتگرد ہیں ایسے نمائندوں پر لعنت بھیجتے ہیں .

.

ضرور پڑھیں: بلوچستان کی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وفاق میں پی ٹی آئی کے اتحادی ہیں اور رہیں گے،منظور کاکڑ

.

ضرور پڑھیں: بلوچستان کا کوٹہ لینےکیلئےاستعمال کردہ جعلی ڈومیسائل منسوخ کرنے کا اعلان


Top