اردن میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کا تعلق سندھ سے، تدفین وہیں ہوگی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اردن کے دارالحکومت عمان کے جنوب مغربی علاقے شونیہ میں گذشتہ روز آتشزدگی کے نتیجے میں جل کر ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا، جن کی تدفین اردن میں ہی ہوگی . اردن میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات سیکنڈ سیکریٹری حسنین حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین اردن میں ہی کی جائے گی .

حسنین حیدر نے مزید بتایا کہ اس وقت اردن میں 15 ہزار کے قریب پاکستانی مقیم ہیں، جنہیں روایت کے مطابق موت کی صورت میں وہیں دفن کیا جاتا ہے.

دو دسمبر کی رات دو بجے کے قریب جنوبی شونیہ کے علاقے کرامہ میں واقع ایک فارم میں ٹین کی چادروں سے بنے ایک چھوٹے مکان میں آگ لگنے سے سات بچوں اور چار خواتین سمیت 13 پاکستانی ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے. آتشزدگی کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی. پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک شدگان کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع دادو سے تعلق رکھنے والے جویا خاندان سے تھا. واقعے میں خاندان کے سربراہ علی شیر جویا محفوظ رہے. آتشزدگی کے واقعے میں تین پاکستانی زخمی بھی ہوئے، جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی. وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ خاندان 1970 کی دہائی میں پاکستان سے اردن منتقل ہو گیا تھا، جن کا پیشہ زراعت اور کاشتکاری تھا. مزید کہا گیا کہ عمان میں پاکستانی سفارت خانہ متوفین کے لواحقین سے رابطے میں ہے اور پاکستانی سفیر اور دیگر اعلیٰ عہدیدار متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں تاکہ انہیں امداد فراہم کی جاسکے.

دوسری جانب اردن کے حکام بھی مکمل تعاون کر رہے ہیں. اردن میں مقیم پاکستانیوں میں سے اکثریت کا پیشہ کھیتی باڑی اور زراعت ہے. اردن میں آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات سردیوں کے دوران گرمائش کے لیے خریدے جانے والے سستے آلات کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں. قریب موجود افراد کے نیند میں ہونے کی وجہ سے آگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا جس کی وجہ سے آگ پھیلنے سے نقصان ہوتا ہے.

..


Top