single photo

وفاقی حکومت نے مانسہرہ ائیرپورٹ منصوبے سے متعلق بڑا فیصلہ سنادیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے مانسہرہ ائیرپورٹ ایئرپورٹ کے منصوبے کو سول ایوی ایشن کی جانب سے غیر منافع بخش قرار دینے پر نے موخر کر دیا ہے، ایئرپورٹ پر جہاز چلانے کے لئے کوئی بھی نجی ایئرلائن کمپنی تیار نہیں ہے اور پی آئی اے کے پاس جہازوں کی کمی کی وجہ سے فلائیٹس اپریشن ممکن نہیں ہے، مانسہرہ ایئرپورٹ پر سالانہ بیس کروڑ اخراجات حکومتی خزانے پر مزید بوجھ ہوں گے . قومی اسمبلی کی سب کمیٹی نے ایئرپورٹ کیلئے مختص زمین کی خریداری کیلئے ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کو منتقل کئے جانے والے 45 کروڑ روپے واپس نہ کرنے اور زمین کے مالکان کو ہونے والے نقصانات ادا کرنے کی سفارش کی ہے .

قومی اسمبلی کی منصوبہ بندی کمیٹی کی جانب سے بنائی جانے والی سب کمیٹی کے کنوینئر کمیٹی محمد سجاد کی سربراہی فمیں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری سول ایوی ایشن،ڈپٹی کمشنر مانسہرہ اور ایڈیشنل سیکرٹری منصوبہ بندی ڈویژن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اس موقع پر کنوینر کمیٹی نے کہا کہ مانسہرہ ایئرپورٹ کا بڑا منصوبہ تھا جس کو موجودہ حکومت نے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ 2016 میں حکومت کی جانب سے ایئرپورٹ کے لئے زمین کی خریداری کیلئے رقم پی ایس ڈی پی میں فراہم کر دی گئی مگرگزشتہ تین سالوں کے دوران زمینوں کے مالکان کو ادائیگیاں نہیں کی گئیں ہیں. انہوں نے کہا کہ مانسہرہ ایئرپورٹ کا منصوبہ ایوی ایشن کی سفارشات پر ہوا تھا اس کو کیوں موخر کیا گیا ہے اور اگر مستقبل میں زمین کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا. انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور بعد میں تمام ادارے اس کی تعمیر کی حمایت کریں گے. انہوں نے کہا کہ اس ایئرپورٹ کی تعمیر کے لئے قومی اسمبلی نے قرار داد منظور کی ہے اسی طرح ایک دوسری قرار داد میں مالکان کو رقم کی ادائیگیوں کا کہا گیا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک رقومات ادا نہیں کی گئیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے کہا کہ ائیرپورٹ کیلئے زمین کے حصول کا طریقہ کار طوریل ہے اور ابھی اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہواکہ حکومت کی جانب سے جنوری 2019میں اس منصوبے کو بند کر دیا گیا تھا. انہوں نے کہا کہ منصوبے کے لئے زمین کی خریداری کے سلسلے میں جو رقومات مختص ہو چکی تھیں وہ ڈپٹی کمشنر کے اکاؤنٹ میں موجود ہے چیئرمین جس پر کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں سے مالکان نے ایئرپورٹ کے لئے مختص زمین کو استعمال نہیں کیا ہے اس کا ذمہ دار کون ہو گا جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 2016 میں زمین ایکوائر کی گئی تھی مگر 2019میں حکومت نے منصوبہ ختم کر دیا. کمیٹی کے رکن صالح محمد نے کہا کہ سیاحت اور سی پیک کے حوالے سے ایئرپورٹ بہت ضروری تھا اور اس وقت ایوی ایشن نے اس منصوبے کو قابل عمل قرار دیا تھا

مگر اب سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کو کیوں ختم کر دیا گیا ہے. اس موقع پر ایوی ایشن ڈویژن کے جائنٹ سیکرٹری نے کہا کہ ایئرپورٹ بنانے کا فیصلہ حکومت کا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ہمارے 43 ایئرپورٹ ہیں اور مذید مقامات پر ایئرپورٹس کی ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے کوئی بھی پرائیویٹ ایئرلائنز مقامی روٹس پر اپنے جہاز نہیں چلاتی ہیں اور پی آئی اے کے پاس اتنے جہاز نہیں ہیں کہ تمام روٹس پر چلا سکے انہوں نے کہا کہ فی الحال مانسہرہ ایئرپورٹ کا منصوبہ کسی بھی لحاظ سے فائدہ مند نہیں ہے اس ائرپورٹ کی تعمیر سے نقصان زیادہ ہو گا. جس پر کمیٹی کے رکن نے کہا کہ جب اس منصوبے کا پی سی ون بن رہا تھا اور اس پر کروڑوں روپے اخراجات ہو گئے تو اب اس کو کیوں بند کر دیا گیا ہے جس پر ایوی ایشن کے حکام نے کہا کہ یہ ایئرپورٹ فائدہ مند نہیں ہے اور ابھی تک کسی بھی فضائی کمپنی نے اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے سول ایوی ایشن کے حکام نے کہا کہ جس وقت پی سی ون بن رہا تھا تو ہم نے تحریری طور پر کہہ دیا تھا کہ یہ ایئرپورٹ فائدہ مند نہیں ہے اس موقع پر وزارت منصوبہ بندی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ اس منصوبے کا آغاز 2014 میں ہوا تھا جب سابق وزیراعظم نے مانسہرہ ایئرپورٹ کی تعمیر کی فزیبلٹی رپورٹ سول ایوی ایشن حکام کو تیار کرنے کی ہدایت کی جس پر ابتدائی رپورٹ میں اس کی تعمیر کے اخراجات پر چار ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا اور اس کو سی ڈی ڈبلیوپی میں پیش کیاگیا. انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن کے 43 ایئرپورٹس ہیں جس میں 13ائرپورٹس اپریشنل ہیں اور صرف 8 ایئرپورٹ منافع بخش ہیں جبکہ باقی ایئرپورٹس کو سبسڈی کے تحت چلایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ سفارشات کے مطابق صرف زمین کی خریداری کی اجازت تو دیدی گئی مگر دوبارہ فزیبلٹی طلب کی گئی تھی. انہوں نے کہا کہ 2017 میں حکومت نے فزیبلٹی کے بغیر منصوبوں کو روک دیا تھا انہوں نے کہاکہ پی سی ٹو کے مطابق مانسہرہ ایئرپورٹ پر صرف اے ٹی آر جہاز اتر سکتے ہیں اور بڑے جہاز کے اترنے کی گنجائش نہیں ہے. اس موقع پر سیکرٹری ایوی ایشن نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے ایئرلائن کی لائسنسنگ کا طریقہ کار بہت آسان کر دیا گیا ہے اور اب کئی پارٹیوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا. انہوں نے کہاکہ اس وقت فضائی سفر بہت مہنگا ہو چکا ہے اور ان حالات میں کوئی بھی ایئرلائن آگے نہیں آرہی ہے. انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ تو بن جاتے ہیں مگر ان پر ہونے والے اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود اگر سودمند نہیں ہو نگے تو ملک کو نقصان برادشت کرنا پڑے گا اور اس پر محض اخراجات ہوں گے. انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس 13 ہزار ریگولر اور پانچ ہزارکنٹریکٹ ملازمین ہیں اور ان کے پاس محض 32 کے قریب جہاز ہیں اس کے برعکس نجی ایئرلائنز کے پاس ملازمین کی تعداد ان کے جہازوں کے برابر ہے. انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے آپریشنل اخراجات زیادہ ہیں اور انہیں ان روٹس پر بھی جہاز چلانے پڑتے ہیں جو کہ سراسر غیر منافع بخش روٹس ہیں. اس موقع پرکنوینر کمیٹی نے کہا کہ اس منصوبے کو ختم کرنے سے زمین کے مالکان کو بھی نقصان ہوا ہے ان کی زمینیں گزشتہ چار سالوں سے بنجر ہو چکی ہیں ان کے نقصانات کاازالہ کون کرے گا. انہوں نے کہا کہ ہمیں مانسہرہ ایئرپورٹ کی تعمیر کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہو گا.سب کمیٹی نے مانسہرہ ایئرپورٹ کے قیام کے لئے پی ایس ڈی پی سے ادا کئے جانے والے450 ملین روپے کی رقم فی الحال ڈپٹی کمشنر مانسہرہ سے واپس نہ لینے اور زمین مالکان کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کی سفارش کی ہے.

..

Top