single photo

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکن خبردار ہو جائیں

ریاض (قدرت روزنامہ) سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جو غیر مُلکی کارکن ملازمت سے فرار ہو جاتے ہیں، انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا ہو گا . ایسے کارکنوں پر ہروب لگ جاتا ہے .

ہروب والے کارکن کو قید اور جرمانے کے علاوہ سعودی مملکت سے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ ساری عمر کسی بھی ویزہ پر سعودی عرب نہیں آ سکیں گے. ہروب والے کارکنوں کو پکڑے جانے پر 50 ہزار ریال کا جرمانہ اور چھ ماہ قید ہوتی ہے، جس کے بعد انہیں وطن واپس بھجوا دیا جاتا ہے. جوازات کے مطابق ہروب میں وہ کارکن بھی آتے ہیں جو اپنے کفیل سے فرار ہو کر کسی دوسرے کفیل کے پاس ملازمت کرنے لگ جاتے ہیں، انہیں غیر قانونی کارکن شمار کیا جاتا ہے. سعودی قانونِ محنت کے تحت اگر کوئی شخص، فیکٹری یا ادارہ ہروب والے کارکن کو ملازمت فراہم کرتا ہے تو اس ادارے کے مالک یا ڈائریکٹر پر ایک لاکھ ریال کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اسے چھ ماہ قید کی سزا بھی ہو گی. تاہم اگر کسی نے اپنے ہاں ایک سے زیادہ ہروب والے کارکن تعینات کر رکھے ہوں گے تو اس پر فی کارکن ایک لاکھ ریال کا جرمانہ لاگو ہو گا.اگر ایسے کسی ادارے کا مالک یا ذمہ دار غیر مُلکی ہوا تو اسے قید اور جرمانے کے علاوہ سعودی مملکت سے ڈی پورٹ بھی کر دیا جائے گا ، جبکہ ایسے ادارے پر اگلے پانچ برس کے لیے کارکنوں کے ویزے کے اجراء پر پابندی عائد کر دی جائے گی.واضح رہے کہ ہروب کا اطلاق تمام پیشوں پر ہوتا ہے، ان میں گھریلو عملہ یعنیڈرائیور، خادمہ، ہوم ٹیوٹر، خانساماں، فیملی نرس اور آیا بھی شامل ہے.ہروب سے مراد وہ غیر مُلکی کارکنان ہیں جو اپنے کفیل کی ملازمت سے بھاگ کر کہیں اور چوری چھُپے ملازمت کرنے لگ جاتے ہیں.

..

Top