single photo

غیر محفوظ ایٹمی سرگرمیوں میں معاونت کا الزام،امریکہ نے پاکستان کی پانچ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں،نام جاری

کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستان کی پانچ کمپنیوں کو امریکہ کی اینٹٹی لسٹ Entity List   میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ ایک پاکستانی کمپنی کو لسٹ سے نکال دیاگیا ہے . اس فہرست میں شامل کمپنیاں امریکہ سے امپورٹس نہیں کر سکیں گی .

رپورٹس کے مطابق امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی (بی آئی ایس)  کی اس فہرست میں حال ہی میں دنیا بھر سے مجموعی طور پرپاکستان سمیت ایک درجن سے زائد ممالک کی 22 کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے. امریکہ کی وفاقی رجسٹری کے مطابق اس اینٹٹی لسٹ میں ان کمپنیوں کو شامل کیا جاتا ہے جن کے بارے میں حکام کو یقین ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کے فارن پالیسی یا قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمی میں ملوث رہی ہیں یا ابھی ہیں یا ملوث ہورہی ہیں. اس فہرست کے حوالے سے تمام فیصلے اینڈ یوزر ریوکمیٹی (ای آر سی) کرتی ہے جو کامرس ڈپارٹمنٹ کیس سربراہی میں قائم ہے. اسٹیٹ، ڈیفنس، انرجی اور ٹریژری (جہاں ضروری ہو)  کے محکمے بھی اس کے رکن ہیں. یہ کمیٹی اس فہرست میں ایسی کمپنیوں کو شامل کرنے کا فیصلہ اکثریتی رائے اور کسی کمپنی کو فہرست سے نکالنے کا فیصلہ متفقہ ووٹ کے ذریعے کرتی ہے. دستیاب معلومات کے مطابق اس اینڈ یورزر ریویو کمیٹی نے پاکستان کی پانچ کمپنیوں انجینئرنگ ایکوپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، فیب کون انٹرنیشنل، مہندس کارپوریشن، پاک ٹیک انجینئرز اور روہتاس انٹرپرائز کو اینٹٹی لسٹ میں شامل کیا ہے. کمیٹی کے مطابق یہ کمپنیاں مبینہ طور پر غیر محفوظ ایٹمی سرگرمیوں میں معاونت کر رہی ہیں. اس کے علاوہ کمیٹی نے ایک اور پاکستانی کمپنی ٹیک لنک کمیونی کیشنز اور ٹیک لنکس کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے جس کے شبے میں نام کی مماثلت کی وجہ سے ٹیکنالوجی لنکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو پچھلی بار اس فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا. کمیٹی نے اینٹٹی لسٹ میں 22  مارچ 2018  کو شامل کی گئی پاکستان کی ایک اور کمپنی مشکو الیکٹرونکس پرائیوٹ لمیٹڈ کی نوعیت میں تبدیلی کی منظوری دی ہے. اس کے لائسنس ریکوائرمنٹ میں، آل آئٹمز سبجیکٹ ٹو دی ائیر EAR، کی جگہ اب آئٹمز آن دی کامرس کنٹرول لسٹ CCL  اونلی، کی ترمیم کر دی گئی ہے. کمیٹی نے حتمی فیصلے میں پاکستان کی ایک کمپنی ٹیکنالوجی لنکس پرائیویٹ لمیٹڈکو اینٹٹی لسٹ سے نکال دیا ہے. اس کمپنی کو چار ستمبر 2018  کو شامل کیا گیا تھا جس پر کمپنی نے کمیٹی سے نظرثانی کی درخواست کی تھی.

..

Top