نواز شریف کو لے جانے والا طیارہ کیا واقعی ایئر ایمبولینس تھا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف جو العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا یافتہ ہیں، چند روز قبل وفاقی کابینہ اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد لندن روانہ ہو گئے . تاہم اُن کی جہاز پر سوار ہونے سے قبل اور جہاز میں بیٹھے ہوئے کی جو تصویریں سامنے آئیں، اس پر سوشل میڈیا پر اچھا خاصا طوفان کھڑا ہو گیا ہے .


ضرور پڑھیں: زیورخ سے کراچی سپیشل ایئر ایمبولینس کی آمد ، کون ہو سکتا ہے ؟

خصوصاً تحریک انصاف کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کوجہاز کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر کسی طرح نہیں لگتا تھا کہ وہ بیمار ہیں.

اور جہاز میں بھی وہ اپنی سیٹ پر جس انداز سے بیٹھے تھے اُس سے کسی طرح بھی نہیں لگتا تھا کہ وہ بیمار ہیں. حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی نواز شریف کی صحت کی خرابی کے معاملے کو مشکوک قرار دے دیا.

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو دیکھ کر بالکل بھی نہیں لگتا تھا کہ وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہیں. وزیر اعظم کی اس تنقید کے جواب میں پاکستان مسلم لیگ ن بھی میدان میں آ گئی ہے. اپوزیشن جماعت نے ایئر ایمبولینس کے اندر کی تصاویر جاری کر دی ہیں. کیونکہ یہ سوال بھی گردش میں تھا کہ کیا نواز شریف نے جس طیارے میں سفر کیا تھا وہ واقعی ایئر ایمبولینس تھا یا پھر قطر کا شاہی طیارہ تھا.

حکومتی حلقوں کی جانب سے اس طرح کی باتیں کرنے کے بعد مسلم لیگ ن نے اس ایئر ایمبولینس کے اندر کے مختلف حصوں کی تصاویر جاری کر دی ہیں. جن میں اس طیارے میں موجود مختلف طبی سہولتوں کو دیکھا جا سکتا ہے.

مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو ’مسٹر پرائم ڈس انفارمر‘ قرار دے ڈالا ہے.

احسن اقبال نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ”مسٹر پرائم ڈس انفارمر آپ نے ائیر ایمبولنس کا ایک حصہ دیکھا، دوسرا حصہ آپ نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا.“

اپنے ٹویٹ میں مسلم لیگی رہنما نے عمران خان کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا ”آپ نواز شریف فوبیا سے باہر آ جائیں. اگر آپ میں رحم ہے یا آپ رحم کر سکتے ہیں

تو پھر اُن بائیس کروڑ عوام پر رحم کھائیں، جو آپ کی کم علمی، جھوٹ اور ناتجربہ کاری کا خمیازہ بھگت رہے ہیں.“

..

ضرور پڑھیں: سویٹرلینڈ سے پرُاسرار ایئر ایمبولینس کی پاکستان آمد اور پھر لندن روانگی ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا


Top