single photo

پنجابی سندھی لیڈرزکیلئےالگ الگ قانون والا ایشو بڑا خطرناک ہے، اعتزازاحسن

لاہور(قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر مرکزی رہنماء اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پنجابی اور سندھی لیڈرز کیلئے الگ قوانین کا ایشو بڑا خطرناک ہے،ایک قانون امیر اور ایک غریب کیلئے توہے، لیکن اب اصل معاملہ یہ اٹھ رہا ہے کہ ایک قانون پنجابی لیڈر اور ایک قانون سندھی لیڈر کیلئے ہے،پنجابی لیڈر کو علاج کی اجازت مل گئی،سندھی لیڈر کے کیس بھی کراچی میں منتقل کیے جائیں . انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے بتادوں کہ میں نے اس کیس سے متعلق کوئی میسج کیا ہی نہیں ہے .

ضرور پڑھیں: مولانا کا دھرنے میں کارٹون سے زیادہ کردارنظر نہیں آیا، اعتزازاحسن

سوشل میڈیا پرمجھ سے منسوب کرکے جو بھی ٹویٹس کیے گئے وہ میرے نہیں ہیں.انہوں نے کہا کہ مجھ سے سوال کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک قانون امیر اور ایک غریب کیلئے ہے، لیکن اس میں اصل معاملہ یہ اٹھ رہا ہے کہ ایک قانون پنجابی لیڈر اور ایک قانون سندھی لیڈر کیلئے ہے.

سندھی لیڈر صرف یہ مانگ رہاکہ میرا کیس سندھ میں منتقل کیا جائے.اگر کیس میں اکاؤنٹس جعلی ہیں تو وہ کراچی سے متعلق ہیں.لیکن ٹرائل اسلام آباد میں چل رہا ہے. یہ بڑا خطرناک ایشو ہے. مجھے دوستوں کے فون بھی آئے ہیں اس پر غور کیا جائے.انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں میاں نوازشریف واپس آجائیں گے، ہوسکتا ہے وہ قبل ازوقت واپس آجائیں.نوازشریف نے کیا لکھ کے دیا ہے کیا نہیں دیا یہ اہم بات نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ شریف فیملی میں نوازشریف کے ساتھ صرف مریم نوازڈٹ کردلیری کے ساتھ کھڑی رہی ہیں. میاں نوازشریف کے بیٹے تو پتا کس چیز کے بنے ہیں، باپ اور بہن جیل میں ہیں لیکن وہ وہاں موجیں اڑا رہے ہیں.وہ والدہ کو دفنانے بھی نہیں آئے.نوازشریف مریم نواز کو جیل میں چھوڑ کرچلا جائے.مریم کی مشکلات ان کو کھینچ کرلائیں گی. مریم نواز کی توطبی گراؤنڈ پر ضمانت نہیں ہوگی، وہ صحت مند ہیں.نوازشریف ضمانت کے بعد لندن میں رہتا ہے، کراچی یا پنڈی بھٹیاں میں رہتا ہے اس کو اجازت ہے. ای سی ایل کا الگ قانون ہے،حکومت دلائل دے سکتی ہے،کہ ہم ملزم کو رعایت دے رہے ہیں اس لیے شرط عائد کرسکتے ہیں.لیکن اس کے برعکس ملزم یا شہری کہہ سکتا ہے کہ آپ مجھے رعایت نہیں دے رہے بلکہ میرا نام ای سی ایل میں ڈال کرقدغن لگا رہے ہیں،لیکن کوئی شہری بھی ہو،ہماراایک بنیادی حق ہے ،جو مولانا مودودی کیس میں 1965ء کی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تسلیم کیا گیاتھا.یہ سفر کرنے کا حق ہے.اس پر اگر حکومت کوئی قدغن لگاتی ہے تو حکومت میرا حق لے رہی ہے.

..

ضرور پڑھیں: مریم نوازنے جتنی سیاست کی دلیری کے ساتھ کی، اعتزازاحسن

Top