single photo

24گھنٹے گزرنے کے باوجود ٹماٹروں کی قیمت جوں کی توں رہی

      اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پنجاب میں ٹماٹروں کے نرخ بلند سطح پر پہنچتے ہی وزیر تجارت نے گزشتہ روز ٹماٹر وں کی قیمت میں استحکام لانے کا وعدہ کیا لیکن 24گھنٹے گزرنے کے باوجود ٹماٹروں کی قیمت جوں کی توں رہی، عوامی حلقوں نے ٹماٹروں کے بدلے دہی استعمال کرنے پر استفادحاصل کر دیا ،گزشتہ روز مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت 200 روپے کلو اور کم سے کم قیمت180روپے رہی جبکہ آلو200،پیاز500روپے دھڑی اور گوبی 60روپے کلوجبکہ ٹینڈے 80روپے،فراشبین 180 بیگن 100 روپے اورمرغی 370روپے کلو تک فروخت ہوتی رہی وفاقی دارالحکومت کے شہریوں نے موجودہ مہنگائی پر اپنے اپنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے پی ٹی آئی حکومت کی اب ملک میں کم آمدنی والے افراد کے لئے کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی انہیں غریب نظر آتے ہیں وہ صرف سیاسی انتقام پر نظریں جمائے ہیں جبکہ ملک میں مہنگائی کا تناسب روز بروز بڑتا جا رہا ہے روز مرہ کی اشیائے خوردنوش کی قیمتیں تین ماہ کے دوران 200فیصد بڑھا دی گئی ہیں ، دالوں سمیت آٹے اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافے کر دیئے گئے جبکہ تنخوادار طبقہ اس بار بچوں کے سکولوں کی کتابیں کاپیاں اور فیسیں ادا کرنے کے قابل ہی نہیں رہا اگر مزید ایک ماہ حکومت نے قیمتوں میں استحکام نہ لایا گیا تو پڑے لکھے پاکستان کے سکول بچوں سے خالی ہو جائیں گے شہری نے آن لائن کو بتایا کہ انسپیکشن کے دوران شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میںغیر اعلانیہ 200فیصد اضافہ کر دیا گیا،تنخوائیں تین سالوں سے جوں کی توں ہیں کرائے بجلی کے بل ادا کریں یا بچوں کو پالیں حکومت نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب تو ہمیں آلو پیاز خریدنے کی بھی سکت نہیں رہی بچوں کو تعلیم دلوانا بھی مشکل اور گھر کے اخراجات بھی مشکل ہو چکے ہیں کئی خواتین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو کئی گھروں میں اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے لڑائیاں جھگڑے شروع ہو چکے ہیں کیونکہ ایک کمانے والا اور 10افرادکھانے والے ہوں تو نظام کیسے چلے گا ملازمتیں ملتی نہیں اور کاروبار چلتے نہیں حکومت نے الیکشن کے دوران مہنگائی کو ختم کرنے اور لاکھوں ملازمتیں دینے کے وعدے کئے لیکن اپنے وعدے پورے کرنے کے بجائے عوام کو سستی موت میں دھکیلا جا رہا ہے مارکیٹوں میں ریٹ کنٹرول لسٹوں تک اویزاں نہیں کی جاتیں اور نہ ہی چیک اینڈ بیلینس کا کوئی نظام موجود ہے جس وجہ سے کئی دکانداروں نے کھانے پینے کی اشیائے خوردونوش میں خودساختہ طور پر اضافے کر دیئے ہیں ’’ آن لائن ‘‘ کی انسپیکشن کے دوران ہوٹل مالکان نے کہا کہ ہمیں بھی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھانی پڑتی ہیں اور ہمارے گاہک روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں اب تو ہمارے کرائے بل اور ملازمین کی تنخوائیں بھی پوری نہیں ہوتیں کئی لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں .

.

.

Top