single photo

جعلی اکاونٹس کیس کی سماعت لیکن آصف زرداری اور ان کی بہن کو پیش نہیں کیاجائے گا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) احتساب عدالت میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف جعلی بنک اکائونٹس، میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنس پر سماعت آج ہو گی . احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کیس کی سماعت کریں گے، جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے آزادی مارچ کے باعث آصف علی زرداری کو پیش نہیں کیا جائے گا .

ضرور پڑھیں: بینظیر بھٹو کو قتل کروانے کا پہلا مشورہ آصف زرداری نے مجھ سے کیا تھا: پیپلز پارٹی کے رہنما کا دعویٰ

واضح رہے آصف علی زرداری پمزاسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ فریال تالپور جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں. جعلی بنک اکاؤنٹس، میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت 30 ملزمان نامزد ہیں.یاد رہے گزشتہ روز سابق صدر کا گردن اور کمرمیں سخت درد کی شکایت پر ڈاکٹروں نے ان کا ایم آر آئی ٹیسٹ کیا.ذرائع کے مطابق ایم آر آئی ٹیسٹ کے بعد آصف علی زرداری کی گردن اور کمر کی فزیو تھراپی بھی شروع کردی گئی ہے.

ہم نیوز کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر سے ان کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے پمز اسپتال میں ملاقات کی جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی.ہسپتال ذرائع کے مطابق سابق صدر سے ان کی صاحبزادی کی ہونے والی ملاقات کے دوران وکلا فاروق ایچ نائیک اورلطیف کھوسہ بھی موجود تھے. رپورٹ کے مطابق دوران ملاقات سابق صدر سے ہونے والی بات چیت میں خاندانی، قانونی اور سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا.خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے 2015 میں جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا.یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی.

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا.سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے رواں سال 7 ستمبر کو جے آئی ٹی تشکیل دی تھی. آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا.

..

ضرور پڑھیں: اللہ ہر طرف حیریت رکھے۔۔۔!!! آصف زرداری کے حوالے سے انتہائی افسوسناک خبر ، پیپلز پارٹی افسردہ ہوگئی

Top