single photo

عمران خان سنتِ محمدیﷺ پر عمل پیرا۔۔۔۔!!! آج ’ کُرتار پور راہداری ‘ پر کیا کر دکھایا؟ شاہ محمود قریشی نے پوری دنیا کو خوشخبری سُنا دی

لاہور(قدرت روزنامہ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ میں آج یہاں آنے والے ہر فر کو جی آیاں نوں کہتا ہوں، مجھے آج کا دن تاریخی دن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ آج محبت کی راہداری کا افتتاح ہوا ہے ، ہم پوری دنیا میں مقیم سکھ کمیونٹی کو مبارکباد دیتے ہیں، خطے میں نئی تاریخ رقم کی گئی ہے جس کا سہرا وزیر اعظم عمران خان کے سر جاتا ہے کیونکہ آپ نے اللہ کی واحد نیت پر ایمان رکھتے ہوئے مذہبی رواداری کی ایک مثال قائم کر دی گئی ہے، دنیا کی سکھ برداری کو دعوت دی جاتی ہے کیونکہ آج کرتارپور صاحب کے سکھوں کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، یہاں آ کر آپ کو پاکستانیوں کی محبت کا عملی نعرہ سب کو نظر آئے گا، بابا گرونانک نے ہمیشہ امن کی بات کی، ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے، خطے میں اگر امن کو خطرہ ہے تو کہاں سے ہے؟ بابا گرونناک نے ہمیشہ محبت کے بیج بوئے، آج ہمیں سوچنا ہہے کہ برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے، نفرت کی فصل کا ذمہ دار کون ہے؟ تفصیلات کے مطابق کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا پاکستان کے اس فیصلے کو سراہ رہی ہے، بابا گروناننک کا جو پیغام ہے وج صوفیائے کرام کا پیغام ہے، اولیائے اللہ کا پیغام ہے، اُسی جذبے کے تحت ہم آج سکھوں کو پاکستان میں خوش آمددید کہتے ہیں، کاش آج محبت کا پیغام کشمیر کی وادی میں بھی پھیل جائے اور وہاں بھی امن قائم ہوجائے، اس وقت پاکستان دو راہداریوں پر کام کر رہی ہے ایک اقتصادی راہداری اور دوسری محبت کی راہداری، اگر ہم اس راہداریوں پر پہلے چلتے تو آج 7 کلومیٹر کا سفر 72 سالوں پر محیط نہ ہوتے . آج اکسیویں صدی ایشیاء کی صدی کہلاتی ہے، ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس صدی میں ایشیا،ساؤتھ ایشیا کو کیا پھل ملتا ہے .

ہم ایک سال پہلے یہاں آئے تھے تو یہاں کچھ نہیں تھا لیکن آج ساری دنیا کو جنگل میں منگل دکھائی دے رہا ہے. تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آگئی ہے. شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ایک سال پہلے ہندوستان کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں محبت کی راہ بناؤں گا، جو وعدہ انہوں نے کیا وہ وفا کر دیا ، میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کہتا ہوں، آپ نے جو وعدہ کیا تھا اس کو وفا کرنے کے لیے کشمیری منتظر ہیں، آج ضرورت اس امر کی ہے ہم جس مذہبی آزادی اور روادری کی بات کرتے ہیں ، اس پر عمل بھی کریں، پاکستان میں مذہبی آزادی کی اجازت ہے، گردواروں ہندو مندروں، گردواروں سمیت ہر کمیونٹی کو پاکستان میں انکے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، یہ سنتِ محمدیﷺ ہے کہ اقلیتوں کو تحفظ دیں، کرتار پور کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی کو بھی سری نگر کی جامع مسجد کشمیریوں کے لیے کھولنی ہوگی تا کہ وہاں جمع کی نماز کشمیرٰ آزادی سے ادا کر سکیں، میں عمران خان کی پارٹی کا نائب کپتان بھی ہوں ، اگر برلن کی دیوار گر سکتی ہے یورپ کا نقشہ بدل سکتا ہے تو پھر لائن آف کنٹرول کی عارضی حد بندی بھی ختم ہوسکتی ہے اور حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کیا جاسکتا ہے، نریندر مودی نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا، میں آج پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کے ناطے یہ کہتا ہوں کیا آپ عمران خان کو شکریہ کا موقع دیں گے؟ کشمیر سے کرفیو ہٹا کر آپ بھی امن کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، آؤ مل کر سوچیں کہ کس طرح غربت، جہالت کے خلاف لڑنا ہے، جنوبی ایشیا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں، میں اپنے کیپٹن ( عمران خان ) کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں، مبارکباد دیتا ہوں.

..

Top