یہ تو حال ہے اس معاشرے کا : اپنے ہی ماں باپ شرمناک کام میں ملوث نکلے ۔۔۔۔۔ قصور کی 8 سالہ طیبہ کے اغوا کا ڈراپ سین ۔۔۔۔ دنگ کر ڈالنے والے انکشافات

قصور(قدرت روزنامہ) تھانہ صدر قصور کے علاقہ علی پارک سے اغواء ہونے والی 8 سالہ طیبہ کا ڈراپ سین، والدین نے مخالفین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کیلئے اپنی ہی بیٹی کے اغواء کا ڈرامہ رچایا . آج والدین نے اپنی ہی بیٹی کو قتل کر کے فیروز پور روڈ بلاک کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی .

پولیس ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے والدین کے شرمناک منصوبے کو بے نقاب کر دیا، مغویہ طیبہ فیصل آباد سے برآمد، بچی کا والد عبدالحمید، ماموں اشفاق اور دو کزن وقاص اور عرفان گرفتار. تفصیلات کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن قدوس بیگ نے تھانہ صدر قصور میں پریس کانفرنس کرتے بتایا کہ گزشتہ روز روڈ کوٹ کے عبدالحمید ولد گلاب نے15پر پولیس کو اطلاع دی کہ سائل کی 8سالہ بیٹی طیبہ صبح 6 بجے قرآن مجید پڑھنے کیلئے جامع مسجد نوشاہی قادری علی پارک گئی، 7بجے تک واپس نہ آئی. سائل نے بیٹی کو ڈھونڈا مگر نہ مل سکی. جس پر تھانہ صدر قصور پولیس موقع پر پہنچ گئی، ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت بھی نے والدین سے ملاقات کی. طیبہ کے اغواء کا معاملہ انتہائی حساس تھا. ضلع قصور میں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں. ڈی پی او نے ڈی ایس پی صدر سرکل عالم شیر جاوید، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر اشفاق حسین کاظمی کی زیر نگرانی ایس ایچ او صدر انسپکٹر حسیب، ایس ایچ او اے ڈویژن وحید عارف، ایس ایچ او بی ڈویژن انسپکٹر میاں فرید، ایس ایچ او الہٰ آباد انسپکٹر ملک طارق محمود اور ملک کفایت حسین سی آئی اے پر مشتمل سپیشل ٹیمیں تشکیل دیں. دوسری طرف مدعی عبدالحمید نے تھانہ صدر اپنی بیٹی کے اغواء کا مقدمہ اپنے مخالفین کے خلاف درج کروا دیا. نامزد ایف آئی آر مخالفین کو بھی شامل تفتیش کر کے تفتیش کیاگیا. پولیس ٹیموں نے مغوی طیبہ کی برآمدگی کیلئے مساجد میں اعلانات کروائے، سوشل میڈیا پر وائرل کی. رات کو سرچ آپریشن کیا، بچی کا کوئی سراغ نہ مل سکا. پولیس ٹیموں نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا گیا. رات 2 بجے مدعی عبدالحمید کو بتائے بغیر پولیس کی ایک ٹیم فیصل آباد روانہ کی گئی جہاں مدعی عبدالحمید کے رشتہ دار رہائش پذیر تھے. پولیس نے مغوی طیبہ کو اسکے ماموں اشفاق کے گھر سے برآمدکرلیا، پولیس نے طیبہ کے والد عبدالحمید، ماموں اشفاق اور دوکزن وقاص اور عرفان کو حراست میں لے لیا. دوران تفتیش مدعی مقدمہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے مخالفین کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کیلئے طیبہ کو اغواء کا ڈرامہ رچاکر قتل کرنے کا منصوبہ بندی کی اور ہم طیبہ کو قتل کرنے والے تھے کہ پولیس نے رات کے وقت طیبہ کو اپنی حفاظت میں لے لیا. ملزم عبدالحمید اور اسکے دیگر رشتہ داروں نے مجرمانہ اور شرمناک فعل کر کے پورے شہر کے امن وامان کو خراب کرنے کی کوشش کی. یاد رہے قصور پولیس نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 40سے زائد لاپتہ بچوں اور بچیوں کو ڈھونڈ کر والدین کے حوالے کیا. انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اور آرپی او شیخوپورہ ریجن سہیل حبیب تاجک نے پولیس ٹیموں کے بروقت ایکشن پر شاباش دی.

..


Top