single photo

کیا چیز حکومتی کمیٹی اور جمعیت علماء اسلام کے مذاکرات کو فیصلہ کن نہیں بننے دے رہی ؟ حامد میر نے حیران کن وجہ بتا دی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئیر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ کچھ وزراء اور مشیروں کے بیانات کی وجہ سے حکومتی مذاکراتی ٹیم اور پرویز الہیٰ کے لیے مسائل ہو رہے ہیں . یہ وزراء اپنے بیانات سے پرویز الہیٰ کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں .

مذاکراتی ٹیم میں شامل ایک وزیر نورالحق قادری نے بھی پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن پر طنز کیے. پرویز الہیٰ نے مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کو کہا کہ میں بات چیت کر رہا ہوں تو مجھے بیک اپ سپورٹ دی جائے. پرویز الہیٰ مذاکراتی ٹیم می شامل ہونے کو تیار نہیں تھے. وہ وزیراعظم عمران خان اور کچھ خیر خیرخواہوں کی درخواست پر شامل ہوئے. مولانا فضل الرحمن نے بھی مذاکراتی ٹیم کو آنے سے منع کیا ہے. خیال رہے کہ وزیراعظم چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کی کوششوں سے متاثر ہیں. وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو مولانا فضل الرحمن سے بات چیت کا مکمل اختیار دے دیا ہے.حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اجلاس سے قبل مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں آزادی مارچ کے خاتمے سے متعلق معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا.چوہدری برداران مسلسل وزیراعظم عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطے میں ہیں اس حوالے سے چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے.تھوڑے صبر اور محنت کی ضرورت ہے.مثبت طریقے سے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے.انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مقصد کو کامیابی ملے گی لیکن ٹائم لگے گا.جب کہ وزیراعظم عمران خان بھی چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کی کوششوں سے متاثر ہیں. چوہدری برادران کی کوشش ہے کہ معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے.وزیراعظم عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے پر چوہدری برادران کا شکریہ ادا کیا ہے.

..

Top