single photo

اپوزیشن سے صلح کے لیے حکومتی وزراء کو اِس کام سے گریز کرنا ہوگا ورنہ۔۔۔ ہارون الرشید نے وزیراعظم کو حیران کن مشورہ دے دیا

لاہور(قدرت روزنامہ) نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ پہلے تو صلح کا دونوں طرف سے پختہ عزم ہونا چاہئے ، عمران خان چودھری برادران سے بیٹھ کربات کرلیں جبکہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنے وزرا کو مذاکرات کے دوران کسی بھی بیان بازی سے باز رکھیں . پروگرام ہارڈ ٹاک پاکستان میں میزبان معید پیرزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چودھری برادران سے بہترکوئی آدمی نہیں وہ جو وعدہ کرلیتے ، اس پرقائم رہتے ہیں .

مولانا نے ا شارہ دے دیا جبکہ عمران خان بھی صلح چاہتے ہیں اب رویے بدلنے کا وقت ا ٓگیا ہے گالی گلوچ بریگیڈ کو بند کرنا ہوگا.تجزیہ کار ارشادبھٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اوران کی پارٹی کے دیگر رہنما دھرنے میں تھوڑی دیرکیلئے آتے ہیں،مجھے لگ رہاہے کہ چودھری برادران دھرنے کے خاتمے اور پنجاب کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں، ان سے فضل الرحمان نے گلہ کیا کہ عمران خا ن کو جب بھی موقع ملتا ہے تو بدزبانی کرتے ہیں.فضل الرحمان کے دھرنے اورمارچ میں کوئی اصول نہیں اپنایا گیا،مفتی کفایت اللہ اورحمداللہ کو انصاف ملا تو عدالتوں سے ملا.تجزیہ کار انصار عباسی نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے مطالبات انتہا پر ہیں، جو پورے نہیں ہونگے .حکومت انہیں کچھ نہیں دیگی، اگر فضل الرحمان نے مانگنا ہے تو وہ الیکشن میں مداخلت کا خاتمہ مانگیں اورشفاف الیکشن ہوں،یہ ملک اسلام کے نام پر بنا لیکن کبھی کسی نے اس میں اسلام نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی.یہ کریڈٹ تومولانا کو جاتاہے کہ وہ پرامن ہیں اوروعدے کے مطابق پشاورموڑ پربیٹھے ہوئے ہیں. ہارون الرشید نے کہا ہے کہ پہلے تو صلح کا دونوں طرف سے پختہ عزم ہونا چاہئے عمران خان چودھری برادران سے بیٹھ کربات کرلیں جبکہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنے وزرا کو مذاکرات کے دوران کسی بھی بیان بازی سے باز رکھیں.

..

Top