single photo

نواز شریف کی شہباز شریف کو فضل الرحمٰن سے فوری ملاقات کی ہدایت

(قدرت روزنامہ)سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اپنے بھائی اور پارٹی کے صدر شہباز شریف کو مولانا فضل الرحمٰن سے فوری ملاقات کی ہدایت کردی . ذرائع کے مطابق نواز شریف کی ہدایت کے بعد شہباز شریف کی جلد اسلام آباد آمد متوقع ہے .

ذرائع نے کہا کہ شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں گے جبکہ آزادی مارچ کے حوالے سے اہم فیصلوں پر بھی بات چیت کا امکان ہے. دوسری جانب نواز شریف نے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے. ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹیم میں احسن اقبال، خواجہ آصف، خرم دستگیر اور رانا تنویر شامل ہیں. ذرائع نے مطابق نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے چاروں ارکان کو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کنٹینر پر نظر آنے کی ہدایت بھی کی ہے. مذاکرات بامقصد ہونے چاہئیں، مولانا عبدالغفور حیدری جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کرنے والے حکومتی ٹیم کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ ہم نے بند نہیں کیا اگر حکومت مذاکرات نہیں کرنا چاہتی ہے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا. میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ہمارا سادہ سا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم استعفی دے دیں. ان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہٰی باوقار انسان ہیں، ان سے ماضی میں ایک تعلق رہا ہے اور چوہدری برادران کی کوشش ہے کہ ہم وزیراعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹ جائیں. انہوں نے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ ڈائریکٹ استعفی اچھا نہیں لگتا تو الیکشن کروا لیں، اگر کام لٹک گیا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو گا کیو نکہ ہمارا بنیادی مطالبہ بھی وزیراعظم کا استعفیٰ اور نئے الیکشن ہیں. حکومتی موقف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب ہم سے رابطے کیا گیا تھا تو ان کو ہم نے اپنے موقف سے واضح کردیا تھا، معاملے کو تصادم کی جانب حکومت لے کر جارہی ہے. ان کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنے کا معاملہ کچھ اور تھا، ہم تو آٹھ دن سے پرامن بیٹھے ہوئے ہیں، یہ ایک تحریک ہے ہم آگے قدم بڑھائیں گے. ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پس پردہ رابطے بھی اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں، پس پردہ رابطے کبھی چھپے نہیں رہتے. مریم نواز کی ہدایت پر لیگی رہنماؤں کی مولانا فضل الرحمٰن سے خفیہ ملاقات مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی ہدایت پر لیگی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی. ملاقات سے باخبر ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ملاقات میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، خواجہ محمد آصف اور پرویز رشید شریک تھے. جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن اور اکرم درانی ملاقات کا حصہ تھے. ذرائع کا کہنا تھا کہ ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں لیگی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبات کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی. ذرائع نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے لیگی رہنماؤں سے نواز شریف کی خیریت دریافت کی. جے یو آئی کی 12 ربیع الاول کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کی تیاریاں ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے ذریعے وزیراعظم عمران خان اور مذاکراتی کمیٹی کو بڑا پیغام پہنچایا ہے. اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیغام دیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 3 ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے، حکومت ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرے. ذرائع نے بتایا کہ اگلے آپشن کے طور پر جے یو آئی ایف نے تیاریاں بھی مکمل کرلی ہیں اور 12 ربیع الاول (اتوار) تک حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے گا جس کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا. ساتھ ہی ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے. ذرائع نے بتایا کہ تمام صوبائی اور وفاقی نشستوں سے استعفوں کا آپشن بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا. باخبر ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن کی اگلی حکمت عملی پر اپنی تیاریاں شروع کرلی ہیں اور سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر اپنا پلان مرتب کررہی ہے. خبر کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں آزادی مارچ کے پڑاؤ کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی متاثر اسلام آباد کے ایچ-9 سیکٹر میں آزادی ماچ کے شرکا کی جانب سے احتجاج کے آغاز کے بعد سے مذکورہ علاقے اور کشمیر ہائی وے کے اطراف مقیم افراد اور وہاں سے گزرنے والوں کو بدترین ٹریفک، کنٹینرز رکاوٹوں، سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے. اس علاقے میں ویسے بھی اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے خریداری کے لیے ہفتہ وار بازاروں اور سرکاری دفاتر میں آنے کے باعث ٹریفک کا دباؤ رہتا ہے. تاہم اب احتجاج کے باعث ان کے روز مرہ کے معمولات سخت میں رکاوٹ آگئی ہے. مارچ کے باعث میٹرو بس کے ڈپو بند ہیں اور راولپنڈی تا اسلام آباد سروس روکی ہوئی ہے جبکہ سرکاری دفاتر مثلاْ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، ایکسایئز اینڈ ٹیکسیشن آفس، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر محکموں میں سائلین کی تعداد بھی خاصی کم ہوگئی ہے. حکومتی کمیٹی میں وزیراعظم کو جے یو آئی کے مطالبات بتانے کی ہمت نہیں، خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الٰہی نے بتایا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے اندر وزیراعظم کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اصل مطالبات بیان کرنے کی ہمت نہیں. قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پرویز الٰہی نے کہا کہ وزیراعظم کو آزادی مارچ کے مطالبات میں نے بتائے. جس پر حکومتی نشستوں کے احتجاج کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ میں نہیں جانتا یہ سچ ہے یا جھوٹ یہ پرویز الٰہی نے کہا ہے. انہوں نے کہا کہ کمیٹی والے کہتے ہیں کہ ہم اصل بات بتاتے ہیں تو وزیراعظم ناراض ہوجاتے ہیں. یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیگی رہنما پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف نے وزیر دفاع پرویز خٹک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے. قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ' اس ایوان میں 12 آرڈیننس بغیر کسی کارروائی کے پاس کیے گئے اور وزیراعظم اپنے دفتر میں بیٹھ کر دیکھتے رہے گزشتہ روز جس طرح قانون سازی ہوئی اس پر پورا ایوان شرمسار ہوا'. مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ' گزشتہ روز جو ہوا وہ اس ایوان کے لیے اچھا شگون نہیں تھا، اس طرح کے رویے رہے تو زیادہ دور نہیں کہ سارا نظام لپیٹ میں آئے'. خواجہ آصف نے کہا کہ ' جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا پرویز خٹک آپ کا اور ہمارا بیڑا غرق ہوجائے اس کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن اداروں کا جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا'. انہوں نے وزیر دفاع کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ' یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے، پرویز خٹک آپ کنٹینر پر چڑھ کر ڈانس کرتے تھے'. اپوزیشن جماعتیں جمہوریت چاہتی ہیں تو مذاکرات کریں، وزیر دفاع وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ملک چلانا چاہتی ہیں تو مسائل کے حل کے لیے بات کریں. قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ' جمہوریت چاہتے ہیں اس ملک کو چلاناچاہتے ہیں تو آکر بات کریں، وہاں دھرنا دیا ہے تو بیٹھے رہیں لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ملک کو تباہ نہیں کرنا'. پرویز خٹک نے کہا کہ ' یہ دھاندلی کی بات کرتے ہیں، ہم نے بھی دھاندلی کی بات کی ہم الیکشن کمیشن گئے، ہم عدالت گئے ہم اسمبلی آئے لیکن یہ تو بات سننے کو تیار ہی نہیں '. انہوں نے کہا کہ' مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں کیا کرسکتے ہو'. قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ روز حکومت کی جانب سے 11 آرڈیننس پاس کرنے کے خلاف احتجاج کیا. آزادی مارچ کا 8 واں دن، سخت سردی میں شرکا موجود جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حکومت مخالف 'آزادی مارچ' کا پڑاؤ 8ویں روز بھی اسلام آباد میں جاری ہے اور شرکا سردی اور بارش کے باوجود اپنے قائدین کی آواز پر احتجاج کے مقام پر موجود ہیں. اسلام آباد میں بارش اور سردی کی شدت میں اضافے سے آزادی مارچ کے شرکا کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے پلاسٹک کے خیموں میں پناہ لی جبکہ کچھ نے دیگر چیزوں سے خود کو ڈھانپ کر وقت گزارا.

..

Top