single photo

کوئی کسی کا وزن اُٹھانے کو تیار نہیں۔۔۔!!! موجودہ حالات میں ابھی تک آرمی چیف اور ویزر اعظم کے درمیان ملاقات کیوں نہیں ہوسکی؟ محتاط رویوں کے حوالے سے ناقابلِ یقین خبر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ کون کس کے ساتھ مخلص نہیں ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اپوزیشن کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا، اتنا کچھ کہ جس پر پیپلز پارٹی اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمان مطمئن ہوں، تحریک عدم اعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی کی باز گشت کے بعد اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق ، بی این پی ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے اپنے بال سنوارنے شروع کردئے ہیں . تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ ترین کالم میں صابر شاکر لکھتے ہیں کہ ’’ کون کس کے ساتھ مخلص نہیں ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اپوزیشن کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا، اتنا کچھ کہ جس پر پیپلز پارٹی اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمان مطمئن ہوں، تحریک عدم اعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی کی باز گشت کے بعد اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق ، بی این پی ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے اپنے بال سنوارنے شروع کردئے ہیں، ان جماعتوں کا خیال ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرےپر اعتماد نہیں کریں گے اور ان میں سے کسی کا چھکا لگ سکتا ہے،عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے یہ پہلا بڑا سیاسی چیلنج ہے اور اگر پاکستان تحریک انصاف نے یہ مسئلہ جلد حل نہیں کیا تو پھر ہمارے سیاسی کلچر کے عین مطابق کوئی اتحادی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ صورتحال کا جلد سیاسی حل نکالا جائے، جس روز اتحادیوں کی جانب سے یہ بیان سامنے آ گیا اُس دن اقتدار کے پاؤں تلے سے زمین کھسک جائے گی، اہم بات یہ ہے کہ کافی عرصہ ہوا وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نہ تو کوئی خبر آئی اور نہ ہی کوئی تصویر جاری کی گئی ہے، یہ ملاقات جب بھی ہو گی کافی اہم ہو گی، ایک فریق کا رویہ کافی محتاط ہو چکا ہے کیونکہ اب کوئی کسی دوسرے کا وزن اُٹھانے کے لیے نہ تو تیار ہے اور نہ ہی ماحول، اپوزیشن نے پہلے مرحلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس تحریک کے نتائج دھرنے کے نتائج کی نوید دے سکتے ہیں کہ امپائر کا موڈ تبدیل ہوا یا نہیں ‘‘ .

..

Top