پس پردہ رابطے بھی ابھی تک بےنتیجہ ثابت ہوئے، مولانا عبدالغفور حیدری

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) جمیعت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پس پردہ رابطے بھی ابھی تک بےنتیجہ ثابت ہوئے، پس پردہ رابطے کبھی چھپے نہیں رہتے، معاملہ لٹک گیا ہے میں نہیں سمجھتا کہ استعفے کے بغیر معاملہ حل ہوگا، حکومت معاملے کو تصادم کی طرف لے کر جارہی ہے . انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کا معاملہ کچھ اور تھا، ہم 8دن سے پرامن بیٹھے ہیں .

ضرور پڑھیں: جعلی مینڈیٹ پر بنی حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی، کچھ لوگ اسرائیل کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟ ملک کو کیا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ عبدالغفور حیدری کا دھماکہ خیز دعویٰ

مذاکرات کا دروازہ ہم نے بند نہیں کیا. حکومت مذاکرات نہیں کرنا چاہتی ہے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا. مذاکرات بامقصد ہونے چاہییں لیکن حکومتی ٹیم غیر سنجیدہ ہے. چودھری پرویزالہٰی باوقار انسان ہیں ماضی میں ایک تعلق رہا ہے. چودھری برادران کی کوشش ہے کہ ہم استعفے سے پیچھے ہٹ جائیں. ہمارا سادہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم استعفا دے دیں. مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ براہ راست استعفا اچھا نہیں لگتا تو الیکشن کروا لیں. انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر نئے الیکشن اور استعفے پر بات کرتے ہیں تو ہم حاضر ہیں. دھاندلی پر پارلیمانی کمیٹی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکی. مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ معاملہ لٹک گیا ہے میں نہیں سمجھتا کہ استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو، پس پردہ رابطے بھی اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں. پس پردہ رابطے کبھی چھپے نہیں رہتے. حکومت معاملے کو تصادم کی طرف لے کر جارہی ہے. دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ملاقات کی ، جس میں وزیراعظم کورہبرکمیٹی کے فیصلوں اور آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے مئوقف سے آگاہ کیا گیا. وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر بات استعفے کی ہے تو پھر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے. لیکن میں استعفا کسی صورت نہیں دوں گا.انہوں نے کہا کہ انہیں کھلے دل سے مارچ اور دھرنے کی اجازت دی جائے. معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں، الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں.

..

ضرور پڑھیں: کچھ بااعتماد لوگوں نے یقین دہانیاں کرائی ہیں جنوری 2020 انتخابات کا سال ہو گا ،عبدالغفور حیدری


Top