single photo

سعودی شہریوں نے مالی پریشانی کے شکارریستوران مالک کو برباد ہونے سے بچا لیا

جدہ (قدرت روزنامہ) سعودی عرب میں ریستوران کی مندی کمائی کے باعث ٹویٹر پر دُہائی دینے والے سعودی شہری کی مد دکے لیے سارا شہر اُمڈ آیا . اُردو نیوز کی خبر کے مطابق چند روز قبل ایک نوجوان ابو حمودنے ٹویٹر پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اُس نے ریاض کے البدیعہ محلے میں مدینہ روڈ پر دو سال قبل ریستوران کھولا تھا .

جو اچھا بھلا چل رہا تھا. تاہم جب ریاض گورنریٹ نے شہر بھر میں ٹرین چلانے کا منصوبہ شروع کیا تو ایک سال پہلے اُس کے ریستوران کے سامنے بھی کھُدائی کا کام شروع ہو گیا.

جس کے بعد مین روڈ کو بند کر دیا گیا. ایسا ہونے کے بعد ابو حمود کے ریستوران میں گاہکوں کا آنا بہت کم ہو گیا کیونکہ گاہکوں کو کھُدائی کے باعث گاڑی بہت دُور کھڑی کر کے پیدل آنا پڑتا تھا. اس روڈ پر کھُدائی کا ابو حمود کے علاوہ دیگر سینکڑوں دُکانداروں کو بھی نقصان ہوا. ابو حمود ڈیڑھ سال تک کاروبار نقصان میں رہنے کے باعث 17 لاکھ ریال کا مقروض ہو گیا.

جبکہ کاروبار میں بھی اُسے 40 لاکھ ریال کا نقصان برداشت کرنا پڑا. ابو حمود نے اپنے اس ویڈیو پیغام میں لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اُسے پریشانی سے نکالنے کے لیے اُس کے ریستوران سے زیادہ سے زیادہ کھانا کھائیں تاکہ وہ کچھ پیسے جوڑنے کے باعث جیل کی ہوا کھانے سے بچ جائے. اُس کا یہ پیغام وائرل ہونے کی دیر تھی.

سعودی ٹویٹر اور سنیپ چیٹ اسٹارز نے اُس کے ریستوران کی مفت تشہیر شروع کر دی. یہاں تک کہ ڈلیوری کمپنیوں نے بھی اُس کے ریستوران سے کھانا گاہکوں کو مفت میں پہنچانے کی ذمہ داری لے لی ہے. چند روز میں ہی اُس کے ریستوران سے ہزاروں افراد معروف سعودی ڈِش ’کشری‘ خرید کر کھا چکے ہیں. جو کہ سفید چاولوں کے ساتھ خشک دال اور مکرونی سے بنتی ہے. ریاض شہر کا کوئی بڑا اسٹار یا مشہور شخصیت ایسی نہیں جو ابو حمود کی مدد کرنے کی غرض سے اُس کے ریستوران میں نہیں گئی اور ویڈیو بنا کر اسے شیئر نہیں کیا اور ساتھ میں اپنے فالوورز کو وہاں جانے کا مشورہ نہیں دیا.اس وقت سعودی عرب میں کشری الباشا کے نام سے ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے.

..

Top