single photo

حکومت نہیں چل سکے تو نئے انتخابات ہونا کوئی معیوب بات نہیں،سید مصطفی کمال

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نہیں چل سکے تو نئے انتخابات ہونا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ ایک جمہوری عمل ہے . اپوزیشن اگر سنجیدہ ہے تو اکھٹے استعفی دے، حکومت خود ہی ختم ہو جائے گی .

ضرور پڑھیں: جان ہے تو جہان ہے۔۔۔ پہلے مریم نواز سیاست کی خاطر جان دینے کو تیار تھی لیکن۔۔۔ پھر حکومت کی جانب سے کون سا سافٹ وئیر انسٹال کیا گیا؟ نامور تجزیہ کار مکمل ثبوتوں کے ساتھ میدان میں آگئے

جو پارٹیاں کنٹینر پر مولانا کے ساتھ چڑھی ہوئی ہیں وہ اپنے معاملات طے ہوتے ہی کنٹینر سے اترتی جا رہی ہیں اور مولانا صاحب کو بھی اس بات کا ادراک ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک نہیں چل پا رہا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا. چیف الیکشن کمشنر کا تعین نا ہونے کی وجہ سے ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ وزیراعظم قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں. سندھ بھی اسی وجہ سے بدحال ہے کیونکہ وزیراعظم وزیر اعلی سندھ سے بات نہیں کرتے. ہم مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر وہ دھرنا آئینی ترامیم کے لیے دیتے جن سے پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جاتا تو ہم انکا بھرپور ساتھ دیتے. مصطفی کمال نے مزید کہا کہ مولانا صاحب بلکل بند گلی میں نہیں کھڑے اگر وہ آئین میں بنیادی ترامیم کروا دیں جس سے آئندہ ہونے والے تمام انتخابات شفاف ہوں نیز اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوجائیں تو یہ ان کی بہت بڑی جیت اور پاکستانی عوام پر احسان ہوگا. وزیراعظم کے تبدیل ہونے سے تبدیلی نہیں آئے گی، چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی پاکستان کے بقا کے لیے ضروری ہے جس کے لیے آئین میں ضروری ترامیم درکار ہیں. وزیراعظم عمران خان نے بھی ماضی میں انتخابی اصلاحات پر زور نہیں دیا، اس لیے موجودہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ملک میں موجودہ بحران کے زمہ دار ہیں. انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے بقول وہ دھرنے میں شرکت کا فیصلہ کارکنان سے پوچھ کریں گے

جو ہر کسی کی سمجھ سے بالاتر ہے. اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہیں اور پیپلز پارٹی کی تیسری لگاتار حکومت میں سندھ کا جو حال ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ان کے پاس وفاقی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، انہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے. سندھ کے 43 ہزار اسکولوں میں 11 ہزار گھوسٹ اسکول ہیں، تعلیم کا برا حال ہے، لوگ ڈینگی، ایڈز، کتے کے کاٹنے، صاف پانی کی عدم دستیابی اور خراب امن و امان کی صورتحال سے مر رہے ہیں، سڑکیں تباہ حال ہیں. اسپتالوں کا حال یہ ہے کہ ایک بچہ کتے کے کاٹنے سے مرگیا، تو ایمبولینس کی عدم دستیابی کی وجہ سے باپ اور چچا اس کی لاش موٹر سائیکل پر رکھ کر لے جانے لگے، راستے میں انکا بھی ایکسیڈنٹ ہو گیا اور وہ دونوں بھی جانبحق ہوگئے. دوسری جانب ٹرین حادثے میں شہید ہونے والے 45 افراد کی لاشیں اب بھی شناخت کے لئے رکھی ہوئی ہیں جبکہ متعلقہ وزیر شرمندہ ہونے اور اپنا فرض پورا کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں سور دھرنے پر تبصرے کرنے میں مصروف ہیںپاکستان میں حکومتیں ظلم کر رہی ہیں،یاد رہے کفر کی حکومت چل سکتی ہے لیکن ظلم کی نہیں. ملک چلانے والوں کو صحیح وقت پر صحیح فیصلے لینے ہونگے ورنہ خدا ناخواستہ مستقبل قریب میں پاکستان کو اس کا ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا.

..

ضرور پڑھیں: حکومت اور فوج ایک پیج پر۔۔۔!!! وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف کے ہمراہ بڑا کام کر دکھایا، پاکستان کا مستقبل روشن دکھائی دینے لگا

Top