single photo

محمود خان اچکزئی کی صدارت میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے اراکین کا اجلاس، آزادی مارچ کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرلیا

کوئٹہ/اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین جناب محمود خان اچکزئی کے زیر صدارت پارٹی کے مرکزی اور صوبائی ایگزیکٹیو کے اراکین کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا . اجلاس میں 25جولائی 2018کے عام انتخابات میں ا سٹیبلشمنٹ کی ایما پر بدترین دھاندلی کے نتیجے میں ملک پر سلیکٹڈ وزیراعظم اور غیر نمائندہ حکومت مسلط کرنے، آئین کو پامال کرنے، پارلیمان،عدلیہ، الیکشن کمیشن،میڈیا اور فوج وسول اداروں کو بے توقیر کرنے،ملک کے اقوام عوام پر کمر توڑ مہنگائی سنگین بیروزگاری،معاشی و سماجی تباہ حالی کی بدترین صورتحال مسلط کرنے، ملک کو اقوام عالم میں یکا وتنہا کرنے اور ملک کے خوشحال ترقیافتہ مستقبل کو تباہ کرنے کے خلاف جمعیتعلماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کو ملکی تاریخ کا سب سے فقیدالمثل اور عظیم الشان اور ملک کے اقوام و عوام کا نمائندہ مارچ قرار دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ اس تاریخی آزادی مارچ نے اسلام آباد میں دھرنا دے کر ملک کے 22 کروڑ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے موجودہ مسلط کردہ سلیکٹیڈ وزیراعظم اور اس کی جعلی حکومت پر عدم اعتماد کا برملا اظہار کرکے اس کو مسترد کردیا ہے .

ضرور پڑھیں: جے یو آئی کے آزادی مارچ میں کنٹینر سے نوجوان کی ہلاکت،رہبرکمیٹی،فضل الرحمان،شہبازشریف ،بلاول و دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

اجلاس میں کہا گیاہے

کہ پشتونخوامیپ آزادی مارچ کے متعین کردہ مقاصد واہداف کے حصول تک اس کا بھر پور ساتھ دے گی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی. اورملک میں آئین وقانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی قوموں کی برابری ملکی افواج کی سیاسی رول کے خاتمے اور غیر جانبدار و صاف شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کے عوام کی نمائندہ اور جمہوری حکومت کے قیام تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی اجلاس میں متحدہ اپوزیشن اور تمام جمہوری سیاسی جماعتوں سے پرزور اپیل کی گئی ہیں کہ وہ ملکی تاریخ کے اس حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں آزادی مارچ کی مقاصد کی کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں.اجلاس میں پارٹی کے تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ آزادی مارچ میں تازہ دم پارٹی کارکنوں کی شرکت کو یقینی بنائیں.

..

ضرور پڑھیں: آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے وبال جان بن گیا

Top