single photo

’ریپ‘ کا الزام لگانے والی خاتون صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر مقدمہ کردیا

امریکا (قدرت روزنامہ) رواں برس جون میں امریکی صحافی، کالم نگار و لکھاری 75 سالہ ای جین کیرل نے اپنی لکھی گئی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 24 سال قبل 1995 میں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا تھا . خاتون صحافی نے اپنی کتاب میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت ان تمام مرد حضرات کا ذکر کیا تھا، جنہوں نے کبھی نہ کبھی زندگی میں انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا .

ضرور پڑھیں: مالٹامیں خاتون صحافی کے قتل کیس میں پیشرفت کے بعدوزیراعظم کامستعفی ہونےکااعلان،بزنس ٹائیکون یورگن گرفتار

کتاب میں ای جین کیرل نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 1995 میں انہیں ایک اسٹور کے ڈریسنگ روم میں جنسی تشدد اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا تھا. خاتون صحافی و لکھاری کی کتاب سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ کے ذریعے ان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خاتون کو اپنے معیار سے کم معیار کی خاتون قرار دیا تھا.

 

ڈونلڈ ٹرمپ نے ای جین کیرل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کی 'ٹائپ' کی نہیں اور نہ ہی انہوں نے انہیں ہراساں کیا. امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ نہ تو ای جین کیرل اس لائق ہیں کہ وہ انہیں ہراساں کرنے کا سوچیں اور نہ ہی ایسا کبھی کچھ ہوا. ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ای جین کیرل جھوٹی کہانی بنا کر ان پر الزام لگا رہی ہیں.تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ خاتون صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات کو جھوٹا کہنے پر امریکی صدر کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا. امریکی اخبار ’نیو یارک پوسٹ‘ کے مطابق ای جین کیرل نے نیویارک کے علاقے منہٹن میں موجود وفاقی عدالت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ریپ‘ الزامات کو جھوٹا کہنے پر ان کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا.

 

رپورٹ کے مطابق خاتون صحافی نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات کو جھوٹا کہنے سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا اور انہیں ذہنی و دلی ٹھیس پہنچی.رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاتون صحافی نے عدالت میں دائر کیے گئے ہرجانے کے مقدمے میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کا بھی ذکر کیا اور ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 1995 میں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا. خاتون صحافی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا ’ریپ‘ اس وقت کیا جب ان کی 52 سال تھی. ای جین کیرل نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ ابتدائی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ایک اسٹور کے ڈریسنگ روم میں لے جاکر دیوار کی جانب دھکا دیا اور بعد ازاں ان کا سر دیوار میں دے مارنے کے بعد ان کے زیر جامہ اتار دیے.

 

خاتون صحافی نے عدالتی درخواست میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے زیر جامہ اتارنے کے بعد ان کے جنسی اعضا میں ہاتھ ڈالے اور بعد ازاں ان کا ’ریپ‘ کردیا. ای جین کیرل نے اپنی درخواست میں اعتراف کیا کہ وہ 25 سال پرانے واقعے کو ثابت تو نہیں کر سکتیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس واقعے کو جھوٹا کہنے کی وجہ سے انہیں دلی تکلیف پہنچی. خاتون صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ’ریپ‘ کیس کے بجائے جھوٹ بولنے پر ہرجانے کا کیس دائر کیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ امریکی صدر کے خلاف عدالت کب تک سماعت کرے گی.

..

ضرور پڑھیں: لاہور میں 27 سالہ خاتون صحافی شوہر کے ہاتھوں قتل لیکن دراصل وجہ کیا بنی؟ پولیس نے اندر کی بات بتادی

Top