وہ گاﺅں جہاں کے کسی نوجوان کی گزشتہ 5 برس سے شادی نہیں ہوئی، انتہائی خوفناک وجہ بھی سامنے آگئی

لکھنؤ (قدرت روزنامہ)بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کانپور کے قریب کئی ایسے دیہات ہیں جہاں گزشتہ 5 برس سے شادی کی شہنائیاں نہیں بجیں اور یہاں کے اکثر نوجوان عمر گزرنے کے باوجود کنوارے ہیں، نوجوانوں کی شادی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان دیہاتوں میں موجود کچرے کے ڈھیر ہیں جس کے باعث کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کی شادی یہاں نہیں کرنا چاہتا . اتر پردیش کے ضلع کانپور کے نواحی دیہاتوں پنکی پڑاﺅ، جموئی ، بدو آپور، سرائے متا کے قریب ہی کانپور کے نگر نگم کا سالڈ ویسٹ پھینکا جاتا ہے، یہاں روزانہ کی بنیاد پر کئی ٹن کچرا لایا جاتا ہے جس کے باعث مذکورہ دیہاتوں کے 70 فیصد لوگ ٹی بی اور دمہ کے امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں .

ضرور پڑھیں: ماڈرن دور کا ایک اور نمونہ : بالی وڈ کی نامور خاتون شادی کیے بغیر بچے کی ماں بن گئیں ، ایسا کیا ہے کہ اپنے اس کارنامے کی خود تشہیر کرتی پھر رہی ہیں ؟ جانیے

یہ کچرا تین کلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے اور اس کی حدود میں بنپوروا، کلک پوروا، سندر نگر اور اسپات نگر کے دیہات بھی آتے ہیں، گرمیوں میں یہاں کچرے کے ڈھیروں میں خود بخود آگ بھی لگ جاتی ہے جس کے باعث لوگوں کیلئے یہاں رہنا ممکن نہیں رہا ہے. بدو آپور گاﺅں کے سنتوش راجپوت کے مطابق ان کے علاقے میں گزشتہ 5 برس سے کسی نوجوان کی شادی نہیں ہوئی اور اگر کسی کی شادی ہوبھی جاتی ہے تو جلد ہی ٹوٹ جاتی ہے.

اسی گاﺅں کی خاتون سوم وتی کے مطابق ان کے بھتیجے کی شادی طے پاگئی تھی لیکن علاقے کی صورتحال دیکھتے ہوئے اس کے سسرال والوں نے رشتہ توڑ دیا. پنکی پڑاﺅ کی رہائشی خاتون کیتکی کا کہنا ہے کہ ان کے گاﺅں میں 60 لڑکے اور لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں لیکن جب سے کوڑا پلانٹ اس علاقے میں آیا ہے تب سے ان کی شادی نہیں ہو پارہی.

..

ضرور پڑھیں: پاکستان کے اہم شہر میں 60سالہ بابا جی نے 20سالہ لڑکی کو چونا لگا کر شادی کر لی


Top